تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 25
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ سورة المائدة کہتے ہیں جب یہ آیت اتری وہ جمعہ کا دن تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کسی یہودی نے کہا کہ اس آیت کے نزول کے دن عید کر لیتے حضرت عمر نے کہا کہ جمعہ عید ہی ہے مگر بہت سے لوگ اس عید سے بے خبر ہیں دوسری عیدوں کو کپڑے بدلتے ہیں لیکن اس عید کی پروا نہیں کرتے اور میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ آتے ہیں، میرے نزدیک یہ عید دوسری عیدوں سے افضل ہے اسی عید کے لیے سورۃ جمعہ ہے اور اسی کے لیے قصر نماز ہے اور جمعہ وہ ہے جس میں عصر کے وقت آدم پیدا ہوئے اور یہ عید اس زمانہ پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پہلا انسان اس عید کو پیدا ہوا۔قرآن شریف کا خاتمہ اس پر ہوا۔الخام جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۵،۴) شریعت وہی ہے جو آنحضرت لائے اور جو قرآن شریف نے دنیا کو سکھلائی۔ایک نقطہ نہ گھٹایا گیا نہ بڑھایا گیا ہے۔خدا جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے، اس طرح جس طرح پہلے کلام کرتا تھا اسی طرح اب بھی صفت تکلم اس میں موجود ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب خدا کلام نہیں کرتا۔کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تو خدا سنتا تھا مگر اب نہیں سنتا ؟ پس اللہ تعالیٰ کے تمام صفات جو پہلے موجود تھے اب بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔خدا میں تغیر نہیں۔شریعت چونکہ تکمیل پاچکی ہے۔لہذا اب کسی نئی شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم پس اکمال دین کے بعد اور کسی نئی شریعت کی حاجت نہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخه ۶ رمئی ۱۹۰۸ صفحه ۲) مسیح کی قسمت میں بہت سے اجتماع رکھے ہیں کسوف و خسوف کا اجتماع ہوا۔یہ بھی میرا ہی نشان تھا اور وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ ( التكوير : ۸) بھی میرے ہی لیے ہیں اور وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : ٣) بھی ایک جمع ہی ہے کیونکہ اول اور آخر کو ملایا گیا ہے اور یہ عظیم الشان جمع ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض کی زندگی پر دلیل اور گواہ ہے اور پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دیئے ہیں چنانچہ مطبع کے سامان، کاغذ کی کثرت، ڈاک خانوں ، تار، ریل اور دخانی جہازوں کے ذریعہ کل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور پھر نت نئی ایجاد میں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہی ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہو رہے ہیں۔اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے۔اخباروں اور رسالوں کا اجراء غرض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اغراض میں سے ایک تکمیل دین بھی