تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 430
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۹ سورة الرعد مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِى وُعِدَ الْمُتَتَّقُونَ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ أَكُلُهَا دَابِمُ ظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ عُقْبَى الكَفِرِينَ النَّارُ قرآن شریف کی تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جیسا کہ یہ بات ٹھیک نہیں کہ بہشت کی لذات صرف روحانی ہیں اور دنیوی جسمانی لذات سے بالکل مخالف ہیں ایسا ہی یہ بھی درست نہیں کہ وہ لذات دنیوی جسمانی لذات سے بالکل مطابق ہے بلکہ عالم رویا کی طرح صورت میں مشابہت ہے اور حقیقت میں مغایرت ہے۔عالم رویا کے پھل اور عالم رویا کی خوبصورت عورتیں ظاہر صورت میں وہی لذات بخشتی ہیں جو عالم جسمانی میں ہیں مگر عالم رویا کی حقیقت اور اس عالم جسمانی کی حقیقت اور ہے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۰ حاشیہ ) خدا نے بہشت کی خوبیاں اس پیرایہ میں بیان کی ہیں جو عرب کے لوگوں کو چیز میں دل پسند تھیں وہی بیان کر دی ہیں تا اس طرح پر ان کے دل اس طرف مائل ہو جائیں اور دراصل وہ چیزیں اور ہیں یہی چیزیں نہیں۔مگر ضرور تھا کہ ایسا بیان کیا جاتا تا کہ دل مائل کئے جائیں۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ - برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۴) یہ ایک مثال ہے نہ کہ حقیقت۔قرآن شریف کے ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ وہ جنت کوئی اور ہی چیز ہے اور حدیث میں صاف یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ان ظاہری جسمانی دنیوی امور پر نعماء جنت کا قیاس نہ کیا جاوے کیوں کہ وہ ایسی چیز ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی وغیرہ مگر وہ باتیں جن کی مثال دے کر جنت کی نعماء کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ تو ہم دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔احکام جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۵) انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کبھی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا انظر آئے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشونما پائیں گے اور وہ اثمار شیر میں وطیب ان میں لگیں گے جو : اكُلُهَا دَابِھ کے مصداق ہوں گے۔یادرکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحه ۹)