تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 429

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۸ سورة الرعد کرے یعنی جس پیشگوئی کا یہ مضمون ہو کہ کسی شخص یا گروہ پر کوئی بلا پڑے گی اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس بلا کو ٹال دے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی کو جو چالیس دن تک محدود تھی ٹال دیا۔لیکن جس پیشگوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام اکرام کی نسبت پیشگوئی ہو وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِیعا دیگر کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْوَعِيْد پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیشگوئی خوف اور دعا اور صدقہ خیرات سے مل سکتی ہے۔(تذکرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۴) إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔(الکام جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۵) لا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ فرمایا ہے لَا يُخْلِفُ الْوَعِيْد نہیں فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے وعید معلق ہوتے ہیں جو دعا اور صدقات سے بدل جاتے ہیں۔اس کی بے انتہا نظیر میں موجود ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان کی فطرت میں مصیبت اور بلا کے وقت دعا اور صدقات کی طرف رجوع کرنے کا جوش ہی نہ ہوتا۔الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۰ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۳) وَ لَقَدِ اسْتَهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَاَمَلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ اَخَذْتُهُم فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ و قف پہلے بھی رسولوں پر ٹھٹھا کیا گیا پس ہم نے ان کافروں کو جو ٹھٹھا کرتے ہیں مہلت دی۔پھر جب وہ اپنے ٹھٹھے میں کمال تک پہنچ گئے تب ہم نے ان کو پکڑ لیا اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ کیوں کر ہمارا عقاب ان پر وارد (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵ حاشیه نمبرا) ہوا۔ج b افَمَنْ هُوَ قَابِمُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَ جَعَلُوا لِلهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَتُوهُم۔- ام تنبونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ اَمَ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكَرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَبَالَهُ مِنْ هَادِه ہر یک جان پر وہ کھڑا ہے۔اس کے عمل مشاہدہ کر رہا ہے۔(ست بیگن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۸)