تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 10
سورة المائدة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس قدر انسان کو قو تیں دی گئی ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اپنے محل پر خرچ کرنا اور ہر یک قوت کا خدا تعالیٰ کی مرضی اور رضا کے راہ میں جنبش اور سکون کرنا بھی وہ حالت ہے جس کا قرآن شریف کی رو سے اسلام نام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اسلام کی یہ تعریف فرماتا ہے : بلی نام مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنُ ( البقرة : ۱۱۳) یعنی انسان کا اپنی ذات کو اپنے تمام قومی کے ساتھ : خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اپنی معرفت کو احسان کی حد تک پہنچا دینا یعنی ایسا پردہ غفلت در میان سے اٹھانا کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہی اسلام ہے۔پس ایک شخص کو مسلمان اس وقت کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ تمام قوتیں اس کی خدا تعالیٰ کے راہ میں لگ جائیں اور اس کے زیر حکم واجب طور پر اپنے اپنے محل پر مستعمل ہوں اور کوئی قوت بھی اپنی خود روی سے نہ چلے۔یہ تو ظاہر ہے کہ نئی زندگی کامل تبدیلی سے ملتی ہے اور کامل تبدیلی ہرگز ممکن نہیں جب تک انسان کی تمام قوتیں جو اس کی انسانیت کا نچوڑ اور لب لباب ہیں اطاعت الہی کے نیچے نہ آجائیں اور جب تمام قو تیں اطاعت الہی کے نیچے آگئیں اور اپنے نیچرل خواص کے ساتھ خط استقامت پر چلنے لگیں تو ایسے شخص کا نام مسلمان ہو گا لیکن ان تمام قوتوں کا اپنے اپنے مطالب میں پورے پورے طور پر کامیاب ہو جانا اور رضائے الہی کے نیچے گم ہو کر اعتدال مطلوب کو حاصل کرنا بجر تعلیم الہی اور تائید الہی غیر ممکن اور محال ہے اور ضرور تھا کہ کوئی کتاب دنیا میں خدا تعالی کی طرف سے ایسی نازل ہوتی کہ جو اسلام کا طریق خدا کے بندوں کو سکھاتی کیونکہ جس طرح ہم اپنے ماتحت جانوروں، گھوڑوں، گدھوں ، بیلوں وغیر ہ کو تربیت کرتے ہیں تا ان کی مخفی استعداد میں ظاہر کریں اور اپنی مرضی کے موافق ان کو چلاویں۔اسی طرح خدا تعالیٰ پاک فطرت انسانوں کی فطرتی قوتیں ظاہر کرنے کیلئے ان کی طرف توجہ فرماتا ہے اور کسی کامل الفطرت پر وحی نازل کر کے دوسروں کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کرتا ہے تا وہ اس کی اطاعت میں محو ہو جائیں۔یہی قدیم سے سنت اللہ ہے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ ہر یک زمانہ کی استعداد کے موافق اسلام کا طریق اس زمانہ کو سکھلاتا رہا ہے۔وجہ کے اصل معنی لغت کی رو سے منہ کے ہیں چونکہ انسان منہ سے شناخت کیا جاتا ہے اور کروڑہا انسانوں میں مابہ الامتیاز منہ سے قائم ہوتا ہے اس لئے اس آیت میں منہ سے مراد استعارہ کے طور پر انسان کی ذات اور اس کی قوتیں ہیں جن کی رو سے وہ دوسرے جانوروں سے امتیاز رکھتا ہے گویا وہ قوتیں اس کی انسانیت کا منہ ہے۔