تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 9

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹ سورة المائدة زندگی اب شروع ہوگئی۔کس طرح شروع ہوگئی ؟ نَحْنُ اولی کم الے اس طرح کہ ہم تمہارے متولی اور متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت: توتی أكُلَهَا كُل حِينٍ میں فرمایا گیا تھا اور آیت فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کے متعلق ایک بات ذکر کرنے سے رہ گئی کہ کمال اس تعلیم کا باعتبار اس کے انتہائی درجہ ترقی کے کیوں کر ہے؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن شریف سے پہلے جس قد تعلیمیں آئیں در حقیقت وہ ایک قانون مختص القوم یا مختلف الزمان کی طرح تھیں اور عام افادہ کی قوت ان میں نہیں پائی جاتی تھی لیکن قرآن کریم تمام قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تکمیل کے لئے آیا ہے مثلاً نظیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسی کی تعلیم میں بڑا ز ورسز ادہی اور انتقام میں پایا جاتا ہے جیسا کہ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ کے فقروں سے معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح کی تعلیم میں بڑا زور عضو اور درگزر پر پایا جاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ دونوں تعلیمیں ناقص ہیں نہ ہمیشہ انتقام سے کام چلتا ہے اور نہ ہمیشہ عفو سے بلکہ اپنے اپنے موقعہ پر نرمی اور درشتی کی ضرورت ہوا کرتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: جَزْوُا سَيِّئَةٍ سَيْئَةٌ مِثْلَهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ( الشوری: ۴۱) (س ۵٫۲۵) یعنی اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اسی قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور عفو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہونہ کہ کوئی فساد۔یعنی عفو اپنے محل پر ہو نہ غیر حل پر۔پس اجر اس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن طریق ہے۔اب دیکھئے اس سے بہتر اور کون سی تعلیم ہوگی کہ عفو کو فو کی جگہ اور انتقام کو انتظام کی جگہ رکھا اور پھر فرمایا: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَانِى ذِي الْقُرْبى ( النحل : ۹۱ ) ( س ۱۴۔(۱۹) یعنی اللہ تعالی حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوی القربی ریہ ہیں۔اب سوچنا چاہیے کہ مراتب تین ہی ہیں ؛ اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۳ تا ۱۲۷)