تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 11

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11 سورة المائدة اور چونکہ پہلے نبی ایک خاص قوم اور خاص ملک کیلئے آیا کرتے تھے اس لئے ان کی تعلیم جو ابھی ابتدائی تھی مجمل اور ناقص رہتی تھی کیونکہ بوجہ کی قوم اصلاح کی حاجت کم پڑتی تھی اور چونکہ انسانیت کے پودہ نے ابھی پورا نشو نما بھی نہیں کیا تھا اسلئے استعداد میں بھی کم درجہ پر تھیں اور اعلی تعلیم کی برداشت نہیں کر سکتی تھیں پھر ایسا زمانہ آیا کہ استعداد یں تو بڑھ گئیں مگر زمین گناہ اور بدکاری اور مخلوق پرستی سے بھر گئی اور کچی تو حید اور سچی راستبازی نہ ہندوستان میں باقی رہی اور نہ مجوسیوں میں اور نہ یہودیوں میں اور نہ عیسائیوں میں اور تمام قوتیں ضلالت اور نفسانی جذبات کے نیچے دب گئیں اس وقت خدا نے قرآن شریف کو اپنے پاک نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کر کے دنیا کو کامل اسلام سکھایا اور پہلے نبی ایک ایک قوم کیلئے آیا کرتے اور اس قدر سکھلاتے تھے جو اس قوم کی استعداد کے اندازہ کے موافق ہو اور جن تعلیموں کی وہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ علیمیں اسلام کی ان کو نہیں بتلاتے تھے اسلئے ان لوگوں کا اسلام ناقص رہتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان دینوں میں سے کسی دین کا نام اسلام نہیں رکھا گیا۔مگر یہ دین جو ہمارے پاک نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت دنیا میں آیا اس میں تمام دنیا کی اصلاح منظور تھی اور تمام استعدادوں کے موافق تعلیم دینا مد نظر تھا اس لئے یہ دین تمام دنیا کے دینوں کی نسبت اکمل اور اتم ہوا اور اسی کا نام بالخصوصیت اسلام رکھا گیا اور اسی دین کو خدا نے کامل کہا جیسا کہ قرآن شریف میں ہے : اَليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسلام دینا یعنی آج میں نے دین کو کامل کیا اور اپنی نعمت کو پورا کیا اور میں راضی ہوا جو تمہارا دین اسلام ہو۔چونکہ پہلے دین کامل نہیں تھے اور ان قوانین کی طرح تھے جو مختص القوم یا مختص الزمان ہوتے ہیں اس لئے خدا نے ان دینوں کا نام اسلام نہ رکھا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ وہ انبیاء تمام قوموں کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ اپنی اپنی قوم کیلئے آتے تھے اور اسی خرابی کی طرف ان کی توجہ ہوتی تھی جو ان کی قوم میں پھیلی ہوئی ہوتی تھی اور انسانیت کی تمام شاخوں کی اصلاح کرنا ان کا کام نہیں تھا کیونکہ ان کے زیر علاج ایک خاص قوم تھی جو خاص آفتوں اور بیماریوں میں مبتلا تھی اور ان کی استعداد میں بھی ناقص تھیں اسی لئے وہ کتابیں ناقص رہیں کیونکہ تعلیم کی اغراض خاص خاص قوم تک محدود تھے مگر اسلام تمام دنیا اور تمام استعدادوں کیلئے آیا اور قرآن کو تمام دنیا کی کامل اصلاح مد نظر تھی جن میں عوام بھی تھے اور خواص بھی تھے اور حکماء اور فلاسفر بھی ، اس لئے انسانیت کے تمام قومی پر قرآن نے بحث کی اور یہ چاہا کہ انسان کی ساری قوتیں خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا ہوں اور یہ اس لئے ہوا کہ قرآن کا مد نظر انسان کی تمام استعداد میں تھیں اور۔