تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 376
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٦ سورة هود (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۱۹) اترنے کے لئے بہت آسانی تھی۔بائبل اور سائنس کی آپس میں ایسی عداوت ہے جیسی کہ دو سو کنیں ہوتی ہیں۔بائبل میں لکھا ہے کہ وہ طوفان ساری دنیا میں آیا اور کشتی تین سو ہاتھ لمبی اور پچاس ہاتھ چوڑی تھی اور اس میں حضرت نوح نے ہر قسم کے پاک جانوروں میں سے سات جوڑے اور ناپاک میں سے دو جوڑے ہر قسم کے کشتی میں چڑھائے حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اول تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جب تک پہلے رسول کے ذریعہ سے اس کو تبلیغ نہ کی ہوا اور حضرت نوح کی تبلیغ ساری دنیا کی قوموں پر کہاں پہنچی تھی جو سب غرق ہو جاتے دوم اتنی چھوٹی سی کشتی میں جو صرف ۳۰۰ ہاتھ لمبی اور ۵۰ ہاتھ چوڑی ہو ساری دنیا کے جانور بہائم چرند پرند سات سات جوڑے یا دو دو جوڑے کیوں کر سما سکتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ہے اور اس میں بہت سی غلطیاں داخل ہو گئی ہیں۔تعجب ہے کہ بعض سادہ لوح علماء اسلام نے بھی ان باتوں کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے مگر قرآن شریف ہی ان بے معنی باتوں سے پاک ہے۔اس پر ایسے اعتراض وارد نہیں ہو سکتے۔اس میں نہ تو کشتی کی لمبائی چوڑائی کا ذکر ہے اور نہ ساری دنیا پر طوفان آنے کا ذکر ہے بلکہ صرف الارض یعنی وہ زمین جس میں نوح نے تبلیغ کی صرف اس کا ذکر ہے۔لفظ اراراٹ جس پر نوح کی کشتی ٹھہری اصل آرمی ریت ہے جس کے معنی ہیں میں پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتا ہوں ریت پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے لفظ جو دی رکھا ہے جس کے معنے ہیں میرا جود و کرم یعنی وہ کشتی میرے جود و کرم پر ٹھہری۔الخام جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) قَالَ يَنُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ، إِنَّهُ عَمَلُ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْتَلْنِ مَا b لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ - اِنّى اَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَهِلِينَ سید صاحب کا یہ قول ہے کہ گویا قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دُعائیں قبول نہیں ہوتیں بیان کی سخت نماد نہی ہے اور یہ آیت اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :(1) اُن کے مدعا کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔کیونکہ یہ دُعا جو آیت اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں بطور امر کے بجالانے کے لئے فرمائی گئی ہے۔اس سے مراد معمولی دُعائیں نہیں ہیں۔بلکہ وہ عبادت ہے جو انسان پر فرض کی گئی ہے کیونکہ امر کا صیغہ یہاں فرضیت پر دلالت کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ گل دُعا ئیں فرض میں داخل