تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 377

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۷ سورة هود نہیں ہیں بلکہ بعض جگہ اللہ جل شانہ نے صابرین کی تعریف کی ہے جو انا اللہ پر ہی کفایت کرتے ہیں۔اور اس دُعا کی فرضیت پر بڑا قرینہ یہ ہے کہ صرف امر پر ہی کفایت نہیں کی گئی بلکہ اس کو عبادت کے لفظ سے یاد کر کے بحالت نافرمانی عذاب جہنم کی وعید اس کے ساتھ لگا دی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ دوسری دعاؤں میں یہ وعید نہیں بلکہ بعض اوقات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو دُعا مانگنے پر زجر و توبیخ کی گئی ہے چنانچہ اٹیچ اعِظُكَ اَنْ تَكُونَ مِنَ الْجهلِينَ اس پر شاہد ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ہر دُعا عبادت ہوتی تو حضرت نوح علیہ السلام کو لا تسکین کا تازیانہ کیوں لگایا جاتا ! اور بعض اوقات اولیا اور انبیا دُعا کرنے کوسوء ادب سمجھتے رہے ہیں اور صلحاء نے ایسی دُعاؤں میں استفتاء قلب پر عمل کیا ہے یعنی اگر مصیبت کے وقت دل نے دُعا کرنے کا فتویٰ دیا تو دعا کی طرف متوجہ ہوئے اور اگر صبر کے لئے فتوی دیا تو پھر صبر کیا اور دُعا سے منہ پھیر لیا۔ماسوا اس کے اللہ تعالیٰ نے دوسری دُعاؤں میں قبول کرنے کا وعدہ نہیں کیا بلکہ صاف فرما دیا ہے کہ چاہوں تو قبول کروں اور چاہوں تو رڈ کروں۔بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲، ۱۳) مِنْ دُونِهِ فَكِيدُ ونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ۔(۵۶) یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو۔سارے فریب مکر استعمال کرو قتل کے منصوبے کرو۔اخراج اور قید کی تدبیریں کرو مگر یا درکھو۔۔۔۔۔۔آخر فتح میری ہے تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جاویں گے۔الحاکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۸) قَالُوا يُشعَيْبُ اَصَلوتُكَ تَأمُرُكَ أَنْ نَتُرُكَ مَا يَعْبُدُ ايَاؤُنَا أَوْ أَنْ تَفْعَلَ فِي اَمْوَالِنَا مَا نَشُوا إِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ حلیم وہ ہے جو يَبْلُغُ الْخُلُم کا مصداق ہو اور جو علم کے زمانہ تک پہنچے۔وہ جوان مضبوط ہی ہوتا ہے کیونکہ خورد سال کے کچے اعضا شدت اور صلابت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، قاموس بھی ملاحظہ ہو اور کشاف وغیر بھی اور بالغ عاقل کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۹۳) وَيُقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلُ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ