تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 374

۳۷۴ سورة هود تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو تم جان لو کہ یہ کلام علم انسان سے نہیں بلکہ خدا کے علم سے نازل ہوا ہے۔جس کے علم وسیع اور تام کے مقابلہ پر علوم انسانیہ بے حقیقت اور پیچ ہیں۔اس آیت میں برہانِ انّی کی طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں خلاصہ مطلب یہ ہے کہ علم الہی بوجہ اپنی کمائیت اور جامعیت کے ہرگز انسان کے ناقص علم سے متشابہ نہیں ہوسکتا۔بلکہ ضرور ہے کہ جو کلام اس کامل اور بے مثل علم سے نکلا ہے۔وہ بھی کامل اور بے مثل ہی ہو۔اور انسانی کلاموں سے بکلی امتیاز رکھتا ہو۔سو یہی کمالیت قرآن شریف میں ثابت ہے۔غرض خدا کے کلام کا انسان کے کلام سے ایسا فرق بین چاہئے۔جیسا خدا اور انسان کے علم اور عقل اور قدرت میں فرق ہے۔جس حالت میں افراد انسانی نوع واحد میں داخل ہو کر پھر بھی بوجہ تفاوت علم اور عقل اور تجربہ اور مشق کے متفاوت البیان پائی جاتی ہیں اور وسیع العلیم اور قوی العقل کے فکر رسا تک محدود العلم اور ضعیف اعقل ہر گز نہیں پہنچ سکتا تو پھر خدا جو شرکت نوعی سے بکلی پاک اور بلاشبہ مجمع کمالات تامہ اور اپنی جمیع صفات میں واحد لاشریک ہے اس سے مساوات کسی ذرہ امکان کی کیوں کر جائز ہو اور کیوں کر کوئی مخلوق ہو کر خالق کے علوم غیر متناہیہ سے اپنے بیچ اور ناچیز علم کو برابر کر سکے۔کیا اس صداقت کے ثابت ہونے میں ابھی کچھ کسر رہ گئی ہے کہ کلام کی تمام ظاہری باطنی شوکت و عظمت علمی طاقتوں اور عملی قدرتوں کے تابع ہے۔کیا کوئی ایسا انسان بھی ہے جس نے اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے کسی جزئی میں اس سچائی کو دیکھ نہیں لیا ؟ پس جبکہ یہ صداقت اس قدر قوی اور مستحکام اور شائع اور متعارف ہے کہ کسی درجہ کی عقل اس کے سمجھنے سے قاصر نہیں تو اس صورت میں نہایت درجہ کا نادان وہ شخص ہے کہ جو افراد نا قصہء انسانی میں تو اس صداقت کو مانتا ہے مگر اس ذات کامل کے کلام مقدس میں جس کا اپنے علوم تامہ میں یکتا اور بے نظیر ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے صداقت مذکورہ کے ماننے سے مونہہ پھیرتا ہے۔( براہینِ احمدیہ چہار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۵ تا ۷ ۲۴) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَبُوا ۚ إِنَّهُمُ مغْرَقُونَ (٣٨) میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔اس حساب سے اب یہ زمانہ اس