تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 373

۳۷۳ سورة هود تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور وسعت معلومات اور عام واقفیت اور ملکہ علوم دقیقہ میں سب سے اعلیٰ اور مشق اور ورزش املاء وانشاء میں سب سے زیادہ تر فرسودہ روزگار ہو اور ہر گز ممکن نہ ہو گا کہ جو شخص اس سے استعداد میں علم میں ، لیاقت میں، ملکہ میں ، ذہن میں عقل میں کہیں فروتر اور متنزل ہے وہ اپنی تحریر میں من حیث الکمالات اُس سے برابر ہو جائے۔مثلاً ایک طبیب حاذق جو علم ابدان میں مہارت تامہ رکھتا ہے جس کو زمانہ دراز کی مشق کے باعث سے تشخیص امراض اور تحقیق عوارض کی پوری پوری واقفیت حاصل ہے اور علاوہ اس کے فن سخن میں بھی یکتا ہے اور نظم اور نثر میں سر آمد روزگار ہے۔جیسے وہ ایک مرض کے حدوث کی کیفیت اور اُس کی علامات اور اسباب فصیح اور وسیع تقریر میں بکمال صحت و حقانیت اور بہ نہایت متانت و بلاغت بیان کر سکتا ہے۔اس کے مقابلے پر کوئی دوسرا شخص جس کو فن طبابت سے ایک ذرہ میں نہیں اور فن سخن کی نزاکتوں سے بھی نا آشنا محض ہے ممکن نہیں کہ مثل اس کے بیان کر سکے۔یہ بات بہت ہی ظاہر اور عام فہم ہے کہ جاہل اور عاقل کی تقریر میں ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے اور جس قدر انسان کمالات علمیہ رکھتا ہے۔وہ کمالات ضرور اس کی علمی تقریر میں اس طرح پر نظر آتے ہیں۔جیسے ایک آئینہ صاف میں چہرہ نظر آتا ہے۔اور حق اور حکمت کے بیان کرنے کے وقت وہ الفاظ کہ جو اس کے مونہہ سے نکلتے ہیں۔اس کی لیاقت علمی کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے ایک پیمانہ تصور کئے جاتے ہیں اور جو بات وسعت علم اور کمال عقل کے چشمہ سے نکلتی ہے اور جو بات ننگ اور منقبض اور تاریک اور محدود خیال سے پیدا ہوتی ہے۔ان دونوں طور کی باتوں میں اس قدر فرق واضح ہوتا ہے کہ جیسے قوت شامہ کے آگے بشرطیکہ کسی فطرتی یا عارضی آفت سے ماؤف نہ ہو خوشبو اور بد بو میں فرق واضح ہے۔جہاں تک تم چاہو فکر کر لو اور جس حد تک چاہو سوچ لو کوئی خامی اس صداقت میں نہیں پاؤ گے۔اور کسی طرف سے کوئی رخنہ نہیں دیکھو گے۔پس جبکہ من کل الوجوہ ثابت ہے کہ جو فرق علمی اور عقلی طاقتوں میں مخفی ہوتا ہے۔وہ ضرور کلام میں ظاہر ہو جاتا ہے اور ہر گز ممکن ہی نہیں کہ جو لوگ من حیث العقل و العلم افضل اور اعلیٰ ہیں وہ فصاحت بیانی اور رفعت معانی میں یکساں ہو جائیں اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے۔تو اس صداقت کا ثابت ہونا اس دوسری صداقت کے ثبوت کو مستلزم ہے کہ جو کلام خدا کا کلام ہو اس کا انسانی کلام سے اپنے ظاہری اور باطنی کمالات میں برتر اور اعلیٰ اور عدیم المثال ہونا ضروری ہے۔کیونکہ خدا کے علم تام سے کسی کا علم برابر نہیں ہو سکتا۔اور اسی کی طرف خدا نے بھی اشارہ فرما کر کہا ہے : فَأَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا انْزِلَ بِعِلْمِ اللهِ الجزو نمبر ۱۲۔یعنے اگر کفار اس قرآن کی نظیر پیش نہ کرسکیں اور مقابلہ کرنے سے عاجز رہیں۔۔