تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 3
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة ہے۔اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کرے گا۔احکم جلد ۶ نمبر ۰ ۳ مورخه ۲۴ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۲، ۳) انسان کی کمزوریاں جو ہمیشہ اس کی فطرت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیشہ اس کو تمدن اور تعاون کا محتاج رکھتی ہیں اور یہ حاجت تمدن اور تعاون کی ایک ایسا بد یہی امر ہے کہ جس میں کسی عاقل کو کلام نہیں خود ہمارے وجود کی ہی ترکیب ایسی ہے کہ جو تعاون کی ضرورت پر اول ثبوت ہے۔ہمارے ہاتھ اور پاؤں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء اور ہماری سب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایسی طرز پر واقع ہیں کہ جب تک وہ ہا ہم مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تب تک افعال ہمارے وجود کے علی مجری الصحت ہر گز جاری نہیں ہو سکتے اور انسانیت کی کل ہی معطل پڑی رہتی ہے۔جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہونا چاہیے وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہوسکتا اور جس راہ کو دو پاؤں مل کر طے کرتے ہیں وہ فقط ایک ہی پاؤں سے طے نہیں ہوسکتا۔اسی طرح تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہو رہی ہے۔کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں! کوئی کام دینی ہو یا د نیوی بغیر معاونت با ہمی کے چل ہی نہیں سکتا۔ہر یک گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضائے یک دیگر ہے اور ممکن نہیں جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت با ہمی ان کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہو سکے۔بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہو سکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا مستعمل ہر گز نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا۔انبیاء علیہم السلام جو تو کل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی یہ رعایت اسباب ظاہری مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ ( ال عمران : ۵۳) اور الصف : ۱۵) کہنا پڑا۔خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں یہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِ وَالتَّقْوَی کا حکم فرمایا۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۵۱) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَ قف الْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبْعُ إِلَّا مَا ذَكَيْتُم من