تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 4
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴ سورة المائدة b وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصْبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَبِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطَرَ فِي مَخْصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِاثْمِ فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) مردار مت کھاؤ۔خنزیر کا گوشت مت کھاؤ۔بتوں کے چڑھاوے مت کھاؤ۔لاٹھی سے مارا ہوا مت کھاؤ۔گیر کے مرا ہوا مت کھاؤ۔سینگ لگنے سے مرا ہو ا مت کھاؤ۔درندہ کا پھاڑا ہوا مت کھاؤ۔بت پر چڑھایا ہوا ا مت کھاؤ کیونکہ یہ سب مردار کا حکم رکھتے ہیں۔( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶) ایک نکتہ اس جگہ یا درکھنے کے قابل ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ خنزیر جو حرام کیا گیا ہے۔خدا نے ابتدا سے اس کے نام میں ہی حرمت کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ خنزیر کا لفظ خنز اور آر سے مرکب ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں اس کو بہت فاسد اور خراب دیکھتا ہوں۔خنز کے معنے بہت فاسد اور ار کے معنے دیکھتا ہوں۔پس اس جانور کا نام جو ابتداء سے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہے وہی اس کی پلیدی پر دلالت کرتا ہے اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ ہندی میں اس جانور کو سور کہتے ہیں۔یہ لفظ بھی سوء اور ار سے مرکب ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس کو بہت برا دیکھتا ہوں۔اس سے تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ سو کا لفظ عربی کیوں کر ہو سکتا ہے۔کیونکہ ہم نے اپنی کتاب من الرحمن میں ثابت کیا ہے کہ تمام زبانوں کی ماں عربی زبان ہے اور عربی کے لفظ ہر ایک زبان میں نہ ایک دو بلکہ ہزاروں ملے ہوئے ہیں۔سوسوءعربی لفظ ہے۔اسی لئے ہندی میں سوء کا ترجمہ "بہ" ہے۔پس اس جانور کو بد بھی کہتے ہیں۔اس میں کچھ بھی شک معلوم نہیں ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ تمام دنیا کی زبان عربی تھی۔اس ملک میں یہ نام اس جانور کا عربی میں مشہور تھا جو خنزیر کے نام کے ہم معنی ہے پھر اب تک یاد گار باقی رہ گیا۔ہاں! یہ ممکن ہے کہ شاستری میں اس کے قریب قریب یہی لفظ متغیر ہو کر اور کچھ بن گیا ہو۔مگر صحیح لفظ یہی ہے کیونکہ اپنی وجہ تسمیہ ساتھ رکھتا ہے۔جس پر لفظ خنزیر گواہ ناطق ہے اور یہ معنے جو اس لفظ کے ہیں یعنی بہت فاسد۔اس کی تشریح کی حاجت نہیں۔اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیرت اور دیوث ہے۔اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانون قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو 6699