تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 2

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة اشارہ فرماتا ہے : تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔۔۔۔۔۔یعنی اپنی قوم کی ہمدردی اور اعانت فقط نیکی کے کاموں میں کرنی چاہئے اور ظلم اور زیادتی کے کاموں میں ان کی اعانت ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۳) انسان کی ظاہری بناوٹ اس کے دو ہاتھ ، دو پاؤں کی ساخت ایک دوسرے کی امداد کا ایک قدرتی راہ نما ہے۔جب یہ نظارہ خود انسان میں موجود ہے پھر کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقوی کے معنے سمجھنے میں مشکلات کو دیکھے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ / اپریل ۱۸۹۹ صفحه ۶) ۱/۱۲) یہ دستور ہونا چاہیے کہ کمزور بھائیوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے یہ کس قدر نا مناسب بات ہے کہ دو بھائی ہیں ایک تیرنا جانتا ہے اور دوسرا نہیں تو کیا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے کو ڈوبنے سے بچاوے یا اس کو ڈوبنے دے؟ اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے اسی لیے قرآن شریف میں آیا ہے : تَعاوَنُوا عَلَى الْبِر وَ التَّقْوى - کمزور بھائیوں کا بار اٹھاؤ۔عملی، ایمانی اور مالی کمزوریوں میں بھی شریک ہو جاؤ۔بدنی کمزوریوں کا بھی علاج کرو، کوئی جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہیں دیتے اور اس کی یہی صورت ہے کہ ان کی پردہ پوشی کی جاوے۔صحابہ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔اسی طرح یہ کہ اور ضرور ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے۔دیکھو!وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور ان کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں ایسا ہر گز نہیں چاہیے بلکہ اجماع میں چاہیے کہ قوت آجاوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔کیوں نہیں کیا جاتا ہے کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم اور ہمدردی ، پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے۔ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہیے جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔۔۔۔۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے، پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت اخوت یاد دلائی