تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 321

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التوبة کردیتا ہے۔سب سے بڑھ کر واعظ یہ ہے کہ وہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ کی حقیقت کو سمجھ لے۔صحابہ کرام کی حالت کو دیکھو کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے لیے کیا کچھ نہ کیا۔جو کچھ انہوں نے کیا اسی طرح پر ہماری جماعت کو لازم ہے کہ وہی رنگ اپنے اندر پیدا کریں۔بدوں اس کے کہ وہ اس اصلی مطلب کو جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں پانہیں سکتے کیا ہماری جماعت کو زیادہ حاجتیں اور ضرورتیں لگی ہوئی ہیں جو صحابہ کو نہ تھیں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے اور آپ کی باتیں سننے کے واسطے کیسے حریص تھے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحه ۳) صادق سے صرف یہی مراد نہیں کہ انسان زبان سے جھوٹ نہ بولے۔یہ بات تو بہت سے ہندوؤں اور دہریوں میں بھی ہو سکتی ہے بلکہ صادق سے مراد وہ شخص ہے جس کی ہر بات صداقت اور راستی ہونے کے علاوہ اس کے ہر حرکات وسکنات وقول سب صدق سے بھرے ہوئے ہوں۔گویا یہ کہو کہ اس کا وجود ہی صدق ہو گیا ہو اور اس کے اس صدق پر بہت سے تائیدی نشان اور آسمانی خوارق گواہ ہوں۔چونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لیے جو شخص ایسے آدمی کے پاس جو حرکات و سکنات، افعال و اقوال میں خدائی نمونہ اپنے اندر رکھتا ہے۔صحت نیت اور پاک ارادہ اور مستقیم جستجو سے ایک مدت تک رہے گا تو یقین کامل ہے کہ وہ اگر دہر یہ بھی ہو تو آخر خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لے آئے گا کیونکہ صادق کا وجود خدا نما وجود ہوتا ہے۔انسان اصل میں انسان ہے یعنی دو محبتوں کا مجموعہ ہے۔ایک اُنس وہ خدا سے کرتا ہے دوسرا اُس انسان سے چونکہ انسان کو تو اپنے قریب پاتا اور دیکھتا ہے اور اپنی ہی نوع کی وجہ سے اس سے جھٹ پٹ متاثر ہو جاتا ہے اس لیے کامل انسان کی صحبت اور صادق کی معیت اسے وہ نور عطا کرتی ہے جس سے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور گناہوں سے بچ جاتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۱، صفحه ۱۱) اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے كُونُوا مَعَ الصَّدِقِینَ کہ صادقوں کے ساتھ رہو، یہ معیت چاہتی ہے کہ کسی وقت تک صحبت میں رہے کیونکہ جب تک ایک حد تک صحبت میں نہ رہے وہ اسرار اور حقائق کھل نہیں سکتے وہ اجنبی کا اجنبی رہے گا اور بیگا نہ ہی رہتا ہے اور کوئی رائے قائم کرنے کے قابل نہیں ہوسکتا۔الحاکم جلدے نمبر۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۳) سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود