تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 322
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۲ سورة التوبة قوت وشوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا ہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔سفید کپڑا اچھا رنگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔صادق کی معیت میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے نشانات دیئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور روح تازہ ہوتی ہے۔الحکام جلدے نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۱۳) اعمال نیک کے واسطے صحبت صادقین کا نصیب ہونا بہت ضروری ہے۔یہ خدا کی سنت ہے ورنہ اگر چاہتا تو آسمان سے قرآن شریف یونہی بھیج دیتا اور کوئی رسول نہ آتا۔مگر انسان کو عمل درآمد کے لیے نمونہ کی ضرورت ہے پس اگر وہ نمونہ نہ بھیجتارہتا تو حق مشتبہ ہو جاتا۔البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۰) كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ یعنی صادق لوگوں کے ساتھ معیت اختیار کرو۔ان کی صحبت میں مدت ہائے دراز تک رہو کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص چند روز ان کے پاس رہ جاوے اور ان ایام میں حکمت الہی سے کوئی ایسا امر واقع نہ کیونکہ ان لوگوں کے اپنے اختیار میں تو نہیں کہ جب چاہیں کوئی نشان دکھا دیں۔اسی واسطے ضروری ہے کہ ان کی صحبت میں لمبا عرصہ اور دراز مدت گزر جاوے۔بلکہ نشان دکھانا تو درکنار یہ لوگ تو اپنے خدا کے ساتھ کے تعلقات کا اظہار بھی گناہ جانتے ہیں۔لکھا ہے کہ اگر کوئی ولی خلوت میں اپنے خدا کے ساتھ خاص حالت اور تعلق کے جوش میں ہو اور اس پر وہ حالت طاری ہو تو ایسے وقت میں اگر کوئی شخص اس کے اس حال سے آگاہ ہو جائے تو وہ ولی شخص ایسا شرمندہ اور پسینہ پسینہ ہو جاتا ہے جیسے کوئی زانی عین زنا کی حالت میں پکڑا جاوے کیونکہ یہ لوگ اپنے راز کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔چونکہ طبعاً ایسا معاملہ تھا خدا نے اس واسطے کہا كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ کفار نے جو یہ کہا تھا کہ مالِ هذا الرَّسُولِ يَأكُلُ الفَعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ( الفرقان : ۸) تو انہوں نے بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حالت دیکھ کر ہی یہ کلمہ منہ سے نکالا تھا کہ کیا ہے جی۔یہ تو ہمارے جیسا آدمی ہی ہے۔کھا تا، پیتا، بازاروں میں پھرتا ہے۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا فیض نہ تھا کہ ان کو کوئی رسالت کا امر نظر آتا۔وہ معذور تھے۔انہوں نے جو دیکھا تھا۔اسی کے مطابق رائے زنی کر دی۔پس اس واسطے ضروری ہے کہ مامور من اللہ کی صحبت میں دیر تک رہا جاوے۔ممکن ہے کہ کوئی جس نے نشان کوئی نہ دیکھا ہو کہہ دے کہ اجی ہماری طرح نماز روزہ کرتا ہے اور کیا ہے۔دیکھو حج کے واسطے جانا خلوص اور محبت سے آسان ہے۔مگر واپسی ایسی حالت میں مشکل بہت ہیں۔جو