تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 320

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ سورة التوبة اول خدا تعالیٰ مدد دیتا ہے پھر دوسرے درجہ پر مامور من اللہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں جوش ڈالا ہے اور وہ اسی جوش اور تقاضائے فطرت کے ساتھ مخلوق کی بہتری میں ہر ایک قسم کی کوشش کرتے ہیں جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اس لیے کہ والدہ کا نفس مزر کی نہیں ہے اور یہ مز کی النفس لوگ ہوتے ہیں انہیں کو صادقین اس آیت کونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ میں فرمایا گیا ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴/ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶) یا درکھو۔میں جو اصلاح خلق کے لیے آیا ہوں جو میرے پاس آتا ہے وہ اپنی استعداد کے موافق ایک فضل کا وارث بنتا ہے لیکن میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ جو سرسری طور پر بیعت کر کے چلا جاتا ہے اور پھر اس کا پتہ بھی نہیں ملتا کہ کہاں ہے اور کیا کرتا ہے اس کے لیے کچھ نہیں ہے وہ جیسا تہی دست آیا تھا۔تمہیدست جاتا ہے۔یہ فضل اور برکت صحبت میں رہنے سے ملتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ بیٹھے آخر نتیجہ یہ ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اللہ فی اصحابی گویا صحابہ خدا کا روپ ہو گئے۔یہ درجہ ممکن نہ تھا کہ ان کو ملتا اگر دور ہی بیٹھے رہتے۔یہ بہت ضروری مسئلہ ہے۔خدا تعالیٰ کا قرب بندگانِ خدا کا قرب ہے اور خدا تعالیٰ کا ارشاد كُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ اس پر شاہد ہے یہ ایک سر ہے جس کو تھوڑے ہیں جو سمجھتے ہیں۔مامورمن اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے دوستوں کے امراض کی تشخیص کر کے حسب موقع ان کی اصلاح بذریعہ وعظ ونصیحت کرتا رہتا ہے اور وقتاً فوقتاً وہ ان کے امراض کا ازالہ کرتا رہتا ہے۔اب جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا۔ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں جو آج ہی کی تقریر سن کر چلے جاویں اور بعض باتیں ان میں ان کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں تو وہ محروم گئے لیکن جو متواتر یہاں رہتا ہے وہ ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کرتا جاتا ہے اور آخر اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔احکام جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) دل کی پاکیزگی کا حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ حاصل نہیں ہوسکتی جب تک منہاج نبوت پر آئے ہوئے پاک انسان کی صحبت میں نہ بیٹھے اس کی صحبت کی توفیق نہیں مل سکتی جب تک اولا انسان یہ یقین نہ کر لے کہ وہ ایک مرنے والی ہستی ہے یہی ایک بات ہے جو اس کو صادق کی صحبت کی توفیق عطا فرما دے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے لیے نیکی کا ارادہ کرتا ہے فرماتا ہے تو اس کے دل میں ایک واعظ پیدا