تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 264
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ سورة الاعراف خدا تعالیٰ متقی اور مومن کی زندگی کا ذمہ دار ہے هُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحین اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور اور چو پاؤں کے مشابہ ہیں ان کی زندگی کا کفیل نہیں۔(احکم جلد ۴ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۰ صفحه ۳) نیکیوں کا وہ آپ والی بن جاتا ہے پس کون ہے جو مرد صالح کو ضرر دے سکے؟ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۲ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۱ صفحه ۱۴) قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا ہوا ہے کہ وہ متقیوں کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔تو پھر جب انسان اسباب پر تکیہ اور توکل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرتا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دیتا ہے اور ایک اور خدا اپنے لیے ان اسباب کا تجویز کرتا ہے۔القام جلد ۶ نمبر ۲۷ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۲ صفحہ ۶) وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ جیسے ماں اپنی اولاد کی والی ہوتی ہے ویسے ہی وہ نیکوں کا والی ہوتا ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۲) جس طرح ماں بچے کی متولی ہوتی ہے اسی طرح پر اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں صالحین کا متکفل ہوتا ہوں اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے اور اس کے مال میں طرح طرح کی برکتیں ڈال دیتا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۲۱۷) جب تک انسان اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان نہیں رکھتا اور اس کے وعدوں پر سچا یقین نہیں کرتا اور ہر ایک مقصود کا دینے والا اسی کو نہیں سمجھتا اور کامل صلاح اور تقویٰ اختیار نہیں کر لیتا تو اس وقت تک وہ حقیقی راحت دستیاب نہیں ہو سکتی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ یعنی جو صلاحیت اختیار کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کا متولی ہو جاتا ہے۔انسان جو متولی رکھتا ہے اس کے بہت بوجھ کم ہو جاتے ہیں بہت ساری ذمہ داریاں گھٹ جاتی ہیں۔بچپن میں ماں بچے کی متولی ہوتی ہے تو بچے کو کوئی فکر اپنی ضروریات کا نہیں رہتا۔وہ خود ہی اس کی ضروریات کی کفیل ہوتی ہے اس کے کپڑوں اور کھانے پینے کے خود ہی فکر میں لگی رہتی ہے اس کی صحت قائم رکھنے کا دھیان اسی کو رہتا ہے اس کو نہلاتی اور دھلاتی ہے اور کھلاتی اور پلاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض وقت اس کو مار کر کھانا کھلاتی اور پانی پلاتی اور کپڑا پہناتی ہے۔بچہ اپنی ضرورتوں کو نہیں سمجھتا بلکہ ماں ہی اس کی ضرورتوں کو خوب سمجھتی اور ان کو پورا کرنے کے خیال میں لگی رہتی ہے اسی طرح جب ماں کی تولیت سے نکل آئے تو انسان کو بالطبع ایک متولی کی ضرورت پڑتی ہے طرح طرح سے اپنے متولی اور لوگوں کو بناتا ہے جو خود کمزور ہوتے ہیں اور اپنی ضروریات میں غلطان ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کی خبر نہیں لے سکتے لیکن جو