تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 265

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۵ سورة الاعراف لوگ ان سب سے منقطع ہو کر اس قسم کا تقویٰ اور اصلاح اختیار کرتے ہیں۔ان کا وہ خود متولی ہو جاتا ہے اور ان کی ضروریات اور حاجات کا خود ہی کفیل ہو جاتا ہے۔انہیں کسی بناوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی وہ اس کی ضروریات کو ایسے طور سے سمجھتا ہے کہ یہ خود بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا اور اس پر اس طرح فضل کرتا ہے کہ انسان خود حیران رہتا ہے۔گر نہ ستانی به ستم مے رس والی نوبت ہوتی ہے لیکن انسان بہت سے زمانے پالیتا ہے جب اس پر ایسا زمانہ آتا ہے کہ خدا اس کا متولی ہو جائے یعنی اس کو خدا تعالیٰ کی تولیت حاصل کرنے سے پہلے کئی متولیوں کی تولیت سے گزرنا پڑتا ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ و النَّاسِ۔پہلے حاجت ماں باپ کی پڑتی ہے پھر جب بڑا ہوتا ہے تو بادشاہوں اور حاکموں کی حاجت پڑتی ہے پھر جب اس سے آگے قدم بڑھاتا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں نے متولی سمجھا ہوا تھا وہ خود ایسے کمزور تھے کہ ان کو متولی سمجھنا میری غلطی تھی کیونکہ انہیں متولی بنانے میں نہ تو میری ضروریات ہی حاصل ہو سکتی تھیں اور نہ ہی وہ میرے لیے کافی ہو سکتے تھے پھر وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے اور ثابت قدمی دکھانے سے خدا کو اپنا متولی پاتا ہے اس وقت اس کو بڑی راحت حاصل ہوتی ہے اور ایک عجیب طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔خصوصاً جب خدا کسی کو خود کہے کہ میں تیرا متولی ہوا تو اس وقت جو راحت اور طمانیت اس کو حاصل ہوتی ہے وہ ایسی حالت پیدا کرتی ہے کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔یہ حالت تمام تلخیوں سے پاک ہوتی ہے۔دنیاوی حالتوں میں انسان تلخی سے خالی نہیں ہوسکتا۔دشت دنیا کانٹوں سے بھری ہوئی ہے۔دشت دنیا جز و دو جز دام نیست جز بخلوت گاه حق آرام نیست جن کا اللہ تعالیٰ متولی ہو جاتا ہے وہ دنیا کے آلام سے نجات پا جاتے ہیں اور ایک سچی راحت اور طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۵،۴) اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے اگر اولاد صالح تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے : هُوَ يَتَوَلَّى الصّالِحِينَ یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لیے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور