تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 252
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۵۲ سورة الاعراف b بھری ہوئی صورت ہر یک ذرہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی۔غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قبری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیت کریمہ: الستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی کے ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔اس کی طرف جھکنے کے لئے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کیلئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اِن مِن شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ (بنی اسرائیل : ۴۵) یعنی ہر یک چیز اس کی پا کی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے ایک غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کر لے گا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے یہ کشش ہے پس اگر وہ تعلق خدا کا خالق ہونا نہیں تو کوئی آریہ وغیرہ اس بات کا جواب دیں کہ اس تعلق کی وید وغیرہ میں کیا ماہیت لکھی ہے؟ اور اس کا کیا نام ہے؟ کیا یہی سچ ہے کہ خدا صرف زبر دستی هر یک چیز پر حکومت کر رہا ہے اور ان چیزوں میں کوئی طبعی قوت اور شوق خدا تعالی کی طرف جھکنے کا نہیں ہے؟ معاذ اللہ ہرگز ایسا نہیں بلکہ ایسا خیال کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی خباثت بھی ہے مگر افسوس کہ آریوں کے وید نے خدا تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کر کے اس روحانی تعلق کو قبول نہیں کیا جس پر طبعی اطاعت ہر یک چیز کی موقوف ہے اور چونکہ دقیق معرفت اور دقیق گیان سے وہ ہزاروں کوس دور تھے لہذا یہ سچا فلسفہ ان سے پوشیدہ رہا ہے کہ ضرور تمام اجسام اور ارواح کو ایک فطرتی تعلق اس ذات قدیم سے پڑا ہوا ہے اور خدا کی حکومت صرف بناوٹ اور زبردستی کی حکومت نہیں بلکہ ہر یک چیز اپنی روح سے اس کو سجدہ کر رہی ہے کیونکہ ذرہ ذرہ اس کے بے انتہا احسانوں میں مستغرق اور اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۹۷،۲۹۶) ایک اور دلیل اپنی ہستی پر قرآن شریف میں پیش کرتا ہے: الستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی یعنی میں نے روحوں کو کہا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔اس آیت میں خدا تعالی قصہ کے رنگ میں روحوں کی اس خاصیت کو بیان فرماتا ہے جو ان کی فطرت میں اُس نے رکھی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی روح فطرت کی رو سے خدا تعالیٰ کا انکار نہیں کر سکتی۔صرف منکروں کو اپنے خیال میں دلیل نہ ملنے کی وجہ سے انکار