تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 251
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ سورة الاعراف وَالَّذِينَ يُمَسِكُونَ بِالْكِتُبِ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ۔KI اور جو لوگ محکم پکڑتے ہی کتاب کو اور نماز کو قائم کرتے ہیں ان کے ہم اجر ضائع نہیں کرتے۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۲۰ پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۷۸) وَ إِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلَى انْفُسِهِمُ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدُنَا اَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هذَا غُفِلِينَ b الستُ بِرَبِّكُمْ ، قَالُوا بلی۔الجزو نمبر 9 ہر ایک روح نے ربوبیت الہیہ کا اقرار کیا۔کسی نے انکار نہ کیا۔یہ بھی فطرتی اقرار کی طرف اشارہ ہے۔( براہینِ احمد یہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۵،۱۸۴ حاشیہ نمبر ۱۱) ایسی چیز جو مظہر جمیع عجائبات صنعت الہی ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر نہیں رہ سکتی بلکہ وہ سب چیزوں سے اول درجہ پر مصنوعیت کی مہر اپنے وجود پر رکھتی ہے اور سب سے زیادہ تر اور کامل تر صانع قدیم کے وجود پر دلالت کرتی ہے سو اس دلیل سے روحوں کی مخلوقیت صرف نظری طور پر ثابت نہیں بلکہ در حقیقت اجلی ہدیہات ہے۔ماسوا اس کے دوسری چیزوں کو اپنی مخلوقیت کا علم نہیں مگر روحیں فطرتی طور پر اپنی مخلوقیت کا علم رکھتی ہیں۔ایک جنگلی آدمی کی روح بھی اس بات پر راضی نہیں ہو سکتی کہ وہ خود بخود ہے، اس کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی یعنی روحوں سے میں نے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ( پیدا کنندہ) نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں یہ سوال وجواب حقیقت میں اس پیوند کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو اپنے خالق سے قدرتی طور پر متحقق ہے جس کی شہادت روحوں کی فطرت میں نقش کی گئی ہے۔سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۶۸) اس مذہب کی خدا شناسی نہایت صاف صاف اور انسانی فطرت کے مطابق ہے اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر ان کے سارے تعلیمی خیالات اور تصورات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے آئینہ قانون قدرت میں صاف صاف نظر آئے گا اور اس کی قدرت اور حکمت سے