تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 253

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۳ سورة الاعراف ہے مگر باوجود اس انکار کے وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر ایک حادث کے واسطے ضرور ایک محدث ہے۔دنیا میں ایسا کوئی نادان نہیں کہ اگر مثلاً بدن میں کوئی بیماری ظاہر ہو تو وہ اس بات پر اصرار کرے کہ در پردہ اس بیماری کے ظہور کی کوئی علت نہیں۔اگر یہ سلسلہ دنیا کا عمل اور معلول سے مربوط نہ ہوتا تو قبل از وقت یہ بتادینا کہ فلاں تاریخ طوفان آئے گا یا آندھی آئے گی یا خسوف ہوگا یا کسوف ہوگا یا فلاں وقت بیمار مر جائے گا یا فلاں وقت تک ایک بیماری کے ساتھ فلاں بیماری لاحق ہو جائے گی۔یہ تمام باتیں غیر ممکن ہو جائیں۔پس ایسا محقق اگر چہ خدا کے وجود کا اقرار نہیں کرتا مگر ایک طور سے تو اس نے اقرار کر ہی دیا کہ وہ بھی ہماری طرح معلولات کے لئے عمل کی تلاش میں ہے۔یہ بھی ایک قسم کا اقرار ہے اگر چہ کمال اقرار نہیں۔ماسوا اس کے اگر کسی ترکیب سے ایک منکر وجود باری کو ایسے طور سے بے ہوش کیا جائے کہ وہ اس سفلی زندگی کے خیالات سے بالکل الگ ہو کر اور تمام ارادوں سے معطل رہ کر اعلیٰ ہستی کے قبضہ میں ہو جائے تو وہ اس صورت میں خدا کے وجود کا اقرار کرے گا۔انکار نہیں کرے گا۔جیسا کہ اس پر بڑے بڑے مجرمین کا تجربہ شاہد ہے۔سوائیسی حالت کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اور مطلب آیت یہ ہے کہ انکار وجود باری صرف سفلی زندگی تک ہے ورنہ اصل فطرت میں اقرار بھرا ہوا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۱) نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے۔پھر جس حالت میں ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر اُن کی فطرتی محبت پر میٹر سے کیوں کر ہو سکتی ہے اور کب اور کس وقت پر میشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی یہ تو غیر ممکن ہے۔وجہ یہ کہ فطرتی محبت اُس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو جیسا کہ اسی کی طرف اللہ تعالی قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے: الستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے پس رُوح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعاً وفطر نا محبت ہے اس لئے کہ وہ اسی کی پیدائش ہے۔چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۳، ۳۶۴) انسانی روح میں بڑے بڑے عجیب و غریب خواص اور تغیرات رکھے گئے ہیں کہ وہ اجسام میں نہیں اور b روحوں پر غور کر کے جلد تر انسان اپنے رب کی شناخت کر سکتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ من