تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xxv

صفحہ ۳۶۳ ۳۶۵ ۳۶۵ ۳۶۸ ۳۷۰ ۳۷۲ XXIV نمبر شمار ٢٠٣ مضمون یونس کا قصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کبھی عذاب شرط کے بغیر بھی تاخیر میں ڈال جاتا ہے ۲۰۴ اتر - الف سے مراد اللہ ہال سے مراد جبرائیل اور راء سے مراد رسل ہیں ۲۰۵ قرآن کریم کی تعلیم کا استحکام ( وجوہات احکام آیات قرآن) ۲۰۶ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے ۲۰۷ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لیے ۲۰۸ توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے ۲۰۹ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ - خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے کیا معنے ہیں۔اس کی کنہ خدا کو معلوم ہے قرآن شریف کامل اور بے مثل ہے جس کے مقابلہ کرنے سے کفار عاجز رہے ۳۷۳ قالَمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللہ میں برہان انی کی ۳۷۷ ۳۷۸ طرز پر اثر کے وجود کو مؤثر کے وجود کی دلیل ٹھہرائی ہے آیت اسْتَوَتُ عَلَى الْجُودِي میں جو دی کے معنے سید صاحب کے قول کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے تمام دعاؤں کے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے حالانکہ تمام دعا ئیں قبول نہیں ہوتیں کا جواب علیم وہ ہے جو يَبْلُغُوا العلم کا مصداق ہو اور علم کے زمانہ تک پہنچے فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ خدا نے مخلوقات کو سعادت اور شقاوت کے دوحصوں پر تقسیم کیا حسن اور فتح کو دو حصوں پر تقسیم نہ کیا اس کی حکمت ۲۱۰ ۲۱۱ ۲۱۲ ۲۱۳ ۲۱۴ ۲۱۵