تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xxvi
XXV نمبر شمار ۲۱۶ مضمون کیا جہنمی نجات پائیں گے یا انہیں ہمیشہ عذاب میں چھوڑ دیا جائے گا ۲۱۷ دوزخی دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نہ وہ پیشگی جو خدا کو ہے بلکہ دور دراز مدت کے لحاظ سے ۲۱۸ بہشت کے متعلق فرمایا کہ عطاء غیر محدود ایک ایسی نعمت جس کا انقطاع نہیں۔کے محدود ایسی ۲۱۹ لیکن برخلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ نے ہی بوڑھا کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعل کتاب ہے جو گو یا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے ۲۲۱ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں اس کا جواب ۲۲۲ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الأَمرُ كُلُّه سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے انسان کی مجبوری لازم آتی ہے غلط نہیں ہے ۲۲۳ خدا تعالیٰ کسی کے منشا کے ماتحت نہیں چلتا ہے بلکہ وہ خدا ہے اور غالب علی آمرہ ہے ۲۲۴ وَلَمَّا بَلَغَ اشده میں اسد سے مراد نبوت نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ جب ہوش میں آیا ۲۲۵ فطرة انسان کو شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق بہت پیارا ہوتا ہے ۲۲۶ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَى مِمَّا يَدُعُونِی الیہ سے حضرت یوسف کی پاک فطرت اور غیرت نبوت کا پتہ لگتا ہے صفحہ ۳۸۰ ۳۸۲ ۳۸۶ ۲۱۸ ۳۸۶ ۳۸۹ ۳۹۰ ۳۹۳ ۳۹۴ ۳۹۴ ۳۹۶