تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 189
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ سورة الاعراف ہوں گی اور آگ کے ذریعہ سے ان کے انجن چلیں گے اور آگ سے کام لینے میں وہ بڑی مہارت رکھیں گے۔ اسی وجہ سے ان کا نام یا جوج ماجوج ہے کیونکہ ایچ آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں اور شیطان کے وجود کی بناوٹ بھی آگ سے ہے جیسا کہ آیت : خَلَقْتَنِي مِنْ نَارِ سے ظاہر ہے اس لیے قوم یا جوج ماجوج سے اس کو ایک فطرتی مناسبت ہے۔ اسی وجہ سے یہی قوم اس کے اسم اعظم کی تجلی کے لیے اور اس کا مظہر اتم بننے کے لیے موزوں ہے۔ (تحفہ گولر و یه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۷۷،۲۷۶) تکبر ایسی بلا ہے کہ انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔ یاد رکھو تکبر شیطان سے آتا ہے اور تکبر کرنے والے کو شیطان بنا دیتا ہے۔ جب تک انسان اس راہ سے قطعاً دور نہ ہو قبول حق و فیضان الوہیت ہرگز پا نہیں سکتا کرنا چاہیے۔ علم کے لحاظ لحاظ سے نہ کیونکہ یہ تکبر اس کی راہ میں روک ہو جاتا ہے پس کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے ۔ دولت کے لحاظ سے، نہ وجاہت کے لحاظ سے ، نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر تکبر انہیں باتوں سے پیدا ہوتا ہے جب تک انسان اپنے آپ کو ان گھمنڈوں سے پاک وصاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ اللہ جل شانہ کے نزدیک پسندیدہ و برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت الہی جو جذبات نفسانی کے موادر دیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ گھمنڈ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا شیطان نے بھی یہی گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو آدم علیہ السلام - سے بڑا سمجھا اور کہہ دیا تھا اور کہہ دیا : أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ ۲۳ پ ۱۴ ) میں اس سے اچھا ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اس کو مٹی سے ) نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ بارگاہ الہی سے مردود ہو گیا اس لیے ہر ایک کو اس سے بچنا چاہیے جب تک انسان کو کامل معرفت الہی حاصل نہ ہو وہ لغزش کھاتا ہے اور اس سے متنبہ نہیں ہوتا مگر معرفتِ الہی جس کو حاصل ہو جائے اگرچہ اس سے کوئی لغزش ہو بھی جاوے تب بھی اللہ تعالیٰ اس کی محافظت کرتا ہے۔ چنانچہ آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش پر اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور سمجھ لیا کہ سوائے فضل الہی کے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے دعا کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا : رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف: ۲۴) (اے رب ہمارے ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تیری حفاظت ہمیں نہ بچاوے اور تیر ارحم ہماری دستگیری نہ کرے تو ہم ضرور ٹوٹے والوں میں سے ہو جاویں۔ ) ( تقریر جلسه سالانه ۲۹ دسمبر ۱۹۰۴ صفحه ۱۹ ، ۲۰)