تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 190
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٠ سورة الاعراف قَالَ انْظُرُ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ قرآن شریف اُس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے: قَالَ انْظُرُ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ ، یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اُس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مردے جن کے دل مر گئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں۔خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اُس وقت تک مہلت دی۔سو وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے اس لئے سورۃ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاری کے شر سے خدا تعالی کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔اگر دجال کوئی الگ مفسد ہوتا تو قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا: وَلَا الضَّالین یہ فرمانا چاہئے تھا کہ : وَلَا الدَّجال - اور آیت : إلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے مراد جسمانی بحث نہیں کیونکہ شیطان صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں۔ہاں ! شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں اور چونکہ وہ گروہ ہے اس لئے اُس کا نام دقبال رکھا گیا ہے۔کیونکہ عربی زبان میں دجال گروہ کو بھی کہتے ہیں۔اور اگر دجال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے وہ یہ کہ جن حدیثوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آخری دنوں میں دقبال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا انہیں حدیثوں سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آخری دنوں میں کلیسیا کی طاقت تمام مذاہب پر غالب آجائے گی۔پس یہ تناقض بجز اس کے کیوں کر دور ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔سكتة (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۱) قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخسِرِينَ بہت لوگ ہیں کہ خدا پر شکوہ کرتے ہیں اور اپنے نفس کو نہیں دیکھتے۔انسان کے اپنے نفس کے ہی ظلم ہوتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے۔بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک