تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 188

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸ دم مار کر حضرت صفی اللہ پر خَلَقْتَهُ مِنْ طِینِ کی نکتہ چینی کرتا تھا۔سورة الاعراف آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۹) یا درکھوتکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے نہ علم کے لحاظ سے ، نہ دولت کے لحاظ سے، نہ وجاہت کے لحاظ سے، نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے، کیونکہ زیادہ تر انہیں باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے مواور ڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا: آنا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا اور آدم لغزش پر (چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی ) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا اس سكتة لیے دعا کی : رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف: ۲۴) یہی وہ سر ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو کہا گیا کہ اے نیک استاد۔تو انہوں نے کہا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے۔اس پر آج کل کے نادان عیسائی تو یہ کہتے ہیں کہ ان کا مطلب اس فقرہ سے یہ تھا کہ تو مجھے خدا کیوں نہیں کہتا حالانکہ حضرت مسیح نے بہت ہی لطیف بات کہی تھی جو انبیاء علیہم السلام کی فطرت کا خاصہ ہے۔وہ جانتے تھے کہ حقیقی نیکی تو خدا تعالیٰ ہی سے آتی ہے وہی اس کا چشمہ ہے اور وہیں سے وہ اترتی ہے۔وہ جس کو چاہے عطا کرے اور جب چاہے سلب کر لے مگر ان نادانوں نے ایک عمدہ اور قابل قدر بات کو معیوب بنادیا اور حضرت عیسی کو متکبر ثابت کیا !!! حالانکہ وہ ایک منکسر المزاج انسان تھے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۵ء صفحه ۲) توریت میں ممالک مغربیہ کی بعض قوموں کو یا جوج ماجوج قرار دیا ہے اور ان کا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ٹھہرایا ہے۔قرآن شریف نے اس قوم کے لیے ایک نشانی یہ کھی ہے کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبياء : ٩٧) یعنی ہرا یک فوقیت ارضی ان کو حاصل ہو جائے گی اور ہر ایک قوم پر وہ فتحیاب ہو جائیں گے۔دوسرے اس نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ آگ کے کاموں میں ماہر ہوں گے یعنی آگ کے ذریعہ سے ان کی لڑائیاں