تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 113
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١١٣ سورة المائدة حضرت عیسی کا خود اپنا ایک اقرار ہے جو ان کی وفات پر شاہد ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسی ! کیا تو نے ہی لوگوں کو تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کر کے مانو ؟ یہ جواب ج دیتے ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہے یعنی یہ آیت: وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا توفيتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ یعنی میں تو اس زمانہ تک ان پر گواہ تھا جب میں ان کے درمیان تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر ان کا محافظ تو ہی تھا۔اس جواب میں حضرت عیسی عیسائیوں کی ہدایت کو اپنی زندگی سے وابستہ کرتے ہیں۔پس اگر حضرت عیسی اب تک زندہ ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی بھی حق پر ہیں اور اس آیت فلما توفيتنى سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی قبل از قیامت دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ورنہ نعوذ باللہ ! یہ لازم آتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے کہ مجھے اپنی امت کے بگڑنے کی کچھ بھی اطلاع نہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۴ حاشیه ) بعض نادان اس جگہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جس حالت میں قرآن شریف کی یہ آیت کہ: وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمُ اور آیت: فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حضور میں یہ عذر پیش کریں گے کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑے ہیں نہ میری زندگی میں تو اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب سے بیچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے اور کشمیر میں ستاکئی برس عمر سر کی تھی تو پھر یہ کہنا کہ میری وفات کے بعد لوگ بگڑ گئے صحیح نہیں ہوگا بلکہ یہ کہنا چاہیئے تھا کہ میرے کشمیر کے سفر کے بعد لوگ بگڑے ہیں کیونکہ وفات تو صلیب کے واقعہ سے ستائی برس بعد ہوئی۔پس یادر ہے کہ ایسا وسوسہ صرف قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ورنہ کشمیر کا سفر اس فقرہ کی ضد نہیں کیونکہ مَا دُمْتُ فِيهِمْ کے یہ معنے ہیں کہ جب تک میں اپنی امت میں تھا جو میرے پر ایمان لائے تھے یہ معنے نہیں کہ جب تک میں اُن کی زمین میں تھا کیونکہ ہم قبول کرتے ہیں کہ حضرت عیسی زمین شام میں سے ہجرت کر کے کشمیر کی طرف چلے گئے تھے مگر ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ حضرت عیسی کی والدہ اور آپ کے حواری پیچھے رہ گئے تھے بلکہ تاریخ کی رو سے ثابت ہے کہ حواری بھی کچھ تو حضرت عیسی کے ساتھ اور کچھ بعد میں آپ کو آملے تھے جیسا کہ دھو ما حواری حضرت عیسی کے ساتھ آیا تھا باقی حواری بعد میں آگئے تھے اور