تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 114
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۴ سورة المآئدة حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی رفاقت کے لئے صرف ایک ہی شخص اختیار کیا تھا یعنی دھوما کو جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے وقت صرف حضرت ابو بکر کو اختیار کیا تھا۔کیونکہ سلطنت رومی حضرت عیسی کو باغی قرار دے چکی تھی اور اسی جرم سے پیلاطوس بھی قیصر کے حکم سے قتل کیا گیا تھا کیونکہ وہ در پردہ حضرت عیسی کا حامی تھا اور اس کی عورت بھی حضرت عیسیٰ کی مرید تھی۔پس ضرور تھا کہ حضرت عیسیٰ اس ملک سے پوشیدہ طور پر نکلتے کوئی قافلہ ساتھ نہ لیتے اس لئے انہوں نے اس سفر میں صرف دھو ما حواری کو ساتھ لیا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے سفر میں صرف ابوبکر کو ساتھ لیا تھا اور جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی اصحاب مختلف راہوں سے مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے تھے ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری مختلف راہوں سے مختلف وقتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی خدمت میں جا پہنچے تھے اور جب تک حضرت عیسیٰ ان میں رہے جیسا کہ آیت : مَا دُمْتُ فِيهِمْ کا منشاء ہے وہ سب لوگ تو حید پر قائم رہے بعد وفات حضرت عیسی علیہ السلام کے ان لوگوں کی اولاد دیگر گئی۔یہ معلوم نہیں کہ کسی پشت میں یہ خرابی پیدا ہوئی۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ تیسری صدی تک دین عیسائی اپنی اصلیت پر تھا بہر حال معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی کی وفات کے بعد وہ تمام لوگ پھر اپنے وطن و کی طرف چلے آئے کیونکہ ایسا اتفاق ہو گیا کہ قیصر روم عیسائی ہو گیا پھر بے وطنی میں رہنا لا حاصل تھا۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۲،۴۰۱) فلما توقيتني سورة مائدہ کی آیت پر آج پھر غور کرتے ہوئے ایک نئی بات معلوم ہوئی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت مسیح سے یہ سوال ہوا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے کو اور میری ماں کو اله بنا لو؟ تو وہ اپنی بریت کے لیے جواب دیتے ہیں کہ میں نے تو وہی تعلیم دی تھی جو تو نے مجھے دی تھی اور جب تک میں ان میں رہا میں ان کا نگران تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ان پر نگران تھا اب صاف ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح دوبارہ دنیا میں آئے تھے اور یہ سوال ہوا تھا قیامت میں تو اس کا یہ جواب نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ ان کو تو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ ہاں! بیشک میرے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ان میں شرک پھیل گیا تھا لیکن پھر دوبارہ جا کر تو میں نے صلیوں کو توڑا، فلاں کا فر کو مارا اسے ہلاک کیا، اسے تباہ کیا نہ یہ کہ وہ یہ جواب دیتے : وَ كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمُ اس جواب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو ہرگز ہرگز خود دنیا میں نہیں آنا ہے اور یہ نص ہے ان کے عدم