تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 112

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة یہ کہتا ہے کہ مجھے اُن کے بگڑنے کی کچھ بھی خبر نہیں حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ میں نے قیامت سے پہلے دوبارہ تجھے دنیا میں بھیجا تھا اور تو نے عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں اور اُن کی صلیب توڑی تھی اور اُن کے خنزیر قتل گئے تھے اور پھر میرے رو برواتنا جھوٹ کہ گویا تجھے کچھ بھی خبر نہیں۔اب ظاہر ہے کہ ایسے عقیدے میں کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے کس قدر ان کی ہتک ہے اور نعوذ باللہ ! اس سے وہ دروغ گو ٹھہرتے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۲،۵۱) فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمُ کیا اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ مجھے وفات دینے کے بعد تو ہی اَنْتَ اُن پر رقیب تھا اور کیا ان تمام آیات پر نظر ڈالنے سے صریح طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسی خدا تعالیٰ کے سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ میں جب تک اپنی امت میں تھا ئیں اُن کے اعمال کا گواہ تھا اور اُن کے حالات کا علم رکھتا تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو بعد اس کے تو ہی اُن کا رقیب اور محافظ تھا۔پس کیا ان آیات کا بدیہی طور پر یہ خاص مطلب نہیں ہے کہ میری اُمت میری زندگی میں نہیں بگڑی بلکہ میری وفات کے بعد بگڑی اور بعد وفات مجھے معلوم نہیں کہ ان کا کیا حال ہوا اور کیا مذہب اختیار کیا۔پس خدا تعالیٰ کے اس کلام سے ظاہر ہے کہ اگر فرض کیا جائے کہ حضرت عیسی اب تک زندہ ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی فرض کرنا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک بگڑے نہیں اور بچے مذہب پر قائم ہیں کیونکہ حضرت عیسی اپنی امت کا صراط مستقیم پر ہونا اپنی زندگی تک وابستہ کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ میں نے یہ تعلیم دی ہے کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کرو اور جناب الہی میں عرض کرتے ہیں کہ جب تک میں اپنی امت میں تھا میں نے وہی تعلیم اُن کو دی جس کی تو نے مجھے ہدایت دی تھی اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو بعد کے حالات کا مجھے کچھ علم نہیں اور ان آیات سے صاف طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ورنہ لازم آتا ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولیں گے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ آئے ہوتے تو اس صورت میں اُن کا یہ کہنا کہ مجھے کچھ علم نہیں کہ میری اُمت نے میرے بعد کیا عقیدہ اختیار کیا صریح جھوٹ ٹھہرتا ہے کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آوے اور چشم خود دیکھ جاوے کہ اس کی اُمت بگڑ چکی ہے اور نہ صرف ایک دن بلکہ برابر چالیس برس تک اُن کے کفر کی حالت دیکھتا ر ہے وہ کیوں کر قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے کہہ سکتا ہے کہ اپنی امت کی حالت سے محض بے (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۸۲) خبر ہوں۔