تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 111

سورة المائدة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آیت میں حضرت عیسی اپنی وفات کا صاف اقرار کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی اقرار ہے کہ میں دنیا میں واپس نہیں گیا کیونکہ اگر وہ دنیا میں واپس آئے ہوتے تو پھر اس صورت میں قیامت کے دن یہ کہنا جھوٹ تھا کہ مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کون سا طریق اختیار کیا کیونکہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کریں گے تو پھر قیامت کے دن انکار کر کے یہ کہنا کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں سراسر جھوٹ ہوگا۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْهُ ! چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۰،۲۲۹) اس تمام آیت کے اول آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنے ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسی علیہ السلام کو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود ٹھہرانا تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا تو میں اُن کے حالات سے مطلع تھا اور گواہ تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی اُن کے حالات سے واقف تھا یعنی بعد وفات مجھے اُن کے حالات کی کچھ بھی خبر نہیں۔اب اس آیت سے صریح طور پر دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ؟ (۱) اول یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام اس آیت میں اقرار کرتے ہیں کہ جب تک میں اُن میں تھا میں ان کا محافظ تھا اور وہ میرے روبرو بگڑے نہیں بلکہ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں۔پس اب اگر فرض کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ ہیں تو ساتھ ہی اقرار کرنا پڑے گا کہ اب تک عیسائی بھی بگڑے نہیں کیونکہ اس آیت میں عیسائیوں کا بگڑنا آیت فَلَنا توقيتفی کا ایک نتیجہ ٹھہرایا گیا ہے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر موقوف رکھا گیا ہے۔لیکن جبکہ ظاہر ہے کہ عیسائی بگڑ چکے ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی فوت ہو چکے ہیں ورنہ تکذیب آیت قرآنی لازم آتی ہے، (۲) دوسرے یہ کہ آیت میں صریح طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے بگڑنے کی نسبت اپنی لاعلمی ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ مجھے تو اُس وقت تک ان کے حالات کی نسبت علم تھا جبکہ میں اُن میں تھا اور پھر جب مجھے وفات دی گئی تب سے میں اُن کے حالات سے محض بے خبر ہوں مجھے معلوم نہیں کہ میرے پیچھے کیا ہوا؟ اب ظاہر ہے کہ یہ عذر اُن کا اس حالت میں کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں کسی وقت آئے ہوتے اور عیسائیوں کی ضلالت پر اطلاع پاتے محض دروغ گوئی ٹھہرتا ہے اور اس کا جواب تو خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ہونا چاہیے کہ اے گستاخ شخص ! میرے روبرو اور میری عدالت میں کیوں جھوٹ بولتا ہے اور کیوں محض دروغ کے طور پر