تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 110
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة المائدة الْقُرْآنُ نُزُولَ الْمَسِيحِ مِنَ السَّمَاء في اس آیت میں جو قطعیۃ الدلالت ہے عیسیٰ علیہ السلام کے الْآيَةِ الَّتِي هِيَ قَطْعِيَّةُ الثَّلَالَةِ، تَعَيَّنَ إِذا آسمان سے اترنے کو رد کر دیا ہے تو یہ بات بغیر کسی شک مِنْ غَيْرِ شَدٍ أَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ لَيْسَ کے معین طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ آنے والا مسیح یہود مِنَ الْيَهُودِ بَلْ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ۔وَكَيْفَ میں سے نہیں ہوگا بلکہ اسی امت میں سے ہوگا اور یہ ہو ہی وَإِنَّ الْيَهُودَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللَّهُ فَهُمْ کیسے سکتا ہے جبکہ یہود پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلت لَا يَسْتَحِقُوْنَ الْعِزَّةَ بَعْدَ الْعُقُوبَةِ وارد کی گئی اور اس ابدی سزا کے بعد وہ عزت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔( ترجمہ از مرتب ) الأبدية۔مواهب الرحمن، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹۲ تا ۲۹۴) اگر توئی کے معنی مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں کیونکہ قرآن شریف کی انہی آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسی سے قیامت کے دن ہوگا۔پس اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ موت سے پہلے اس رفع جسمانی کی حالت میں ہی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو جائیں گے اور پھر کبھی نہیں مریں گے کیونکہ قیامت کے بعد موت نہیں اور ایسا خیال بہداہت باطل ہے۔علاوہ اس کے قیامت کے دن یہ جواب اُن کا کہ اُس روز سے کہ میں مع جسم عنصری آسمان پر اُٹھایا گیا مجھے معلوم نہیں کہ میرے بعد میری اُمت کا کیا حال ہوا۔یہ اس عقیدہ کی رُو سے صریح دروغ بے فروغ ٹھہرتا ہے جبکہ یہ تجویز کیا جائے کہ وہ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے کیونکہ جو شخص دوبارہ دنیا میں آوے اور اپنی امت کی مشر کا نہ حالت کو دیکھ لے بلکہ اُن سے لڑائیاں کرے اور اُن کی صلیب توڑے اور اُن کے خنزیر کو قتل کرے وہ کیوں کر قیامت کے روز کہہ سکتا ہے کہ مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۳) قرآن شریف میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت صاف فرما دیا ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے بطور حکایت ذکر کر کے فرماتا ہے : فلما توفيتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ یعنی قیامت کو خدا تعالیٰ عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی قوم کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کرو تو وہ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں اُن کو یہی تعلیم دیتا رہا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں اور پھر جب تو نے مجھے کو وفات دے دی تو بعد اُس کے مجھے اُن کے عقائد کا کچھ علم نہیں۔اس