تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 108

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۸ نزد یک خدا کیوں کر سچا ٹھہر سکتا ہے جس کا بیان باور نہیں کیا گیا۔؟ سورة المائدة اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۶،۱۲۵) فَفَكِّرُ في قَوْلِهِ تَعَالَى إِذْ قَالَ اللهُ اللہ تعالیٰ کے فرمان يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَأَنْتَ قُلْتَ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ انْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ لِلنَّاسِ میں غور کرو اور پھر غور کرو کہ آیا حضرت عیسی نے ثُمَّ فَكِرْ فِي جَوَابِهِ أَصَدَقَ أَمْ كَذَبَ اپنے جواب میں سچ بولا تھا یا معاذ اللہ ! ان لوگوں کے زعم بِنَاءٌ عَلى زَعْمِ قَوْمٍ يُرْجِعُونَهُ مِن کے مطابق جو وسوسہ شیطانی کی وجہ سے انہیں دنیا میں واپس وَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، فَإِنَّهُ إِنْ كَانَ حَقًّا لاتے ہیں آپ نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اگر یہ بات صحیح أَنْ يَرْجِعَ عِيسَى قَبْلَ يَوْمِ الْحَشر ہوتی کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت اور حشر ونشر سے پہلے دنیا وَالْقِيَامِ، وَيَكْسِرَ الصَّلِيْب وَيُدْخِلَ میں واپس آنے والے ہیں اور صلیب کو توڑیں گے اور النَّصَارَى فِي الْإِسْلامِ فَكَيْفَ يَقُولُ نصاری کو اسلام میں داخل کریں گے تو وہ یہ کس طرح کہہ إنِّي مَا أَعْلَمُ مَا صَنَعَتْ أُمَّتِي بَعْدَ رَفعى سکتے تھے کہ مجھے کچھ علم نہیں کہ میرے آسمان کی طرف إِلَى السَّمَاءِ : وَكَيْفَ يَصِحُ مِنْهُ هذَا اُٹھائے جانے کے بعد میری امت نے کیا کیا۔اور آپ کا الْقَوْلُ مَعَ أَنَّهُ اطَّلَعَ عَلى شِرْكِ یہ کہنا کیسے درست ہوسکتا ہے حالانکہ وہ زمین پر لوٹنے کے النَّصَارَى بَعْدَ رُجُوعِهِ إِلَى الْغَيْرَاء بعد نصاری کے شرک پر مطلع ہو چکے تھے اور آپ کو یہ بھی وَاطَّلَعَ عَلَى الْخَادِهِمْ إِيَّاهُ وَأُمَّهُ إِلَهَيْنِ معلوم ہو چکا تھا کہ عیسائیوں نے آپ کو اور آپ کی والدہ کو مِنَ الْأَهْوَاء ؟ فَمَا هَذَا الْإِنْكَارُ عِنْدَ اپنی خواہشات کی بناء پر معبود قرار دے رکھا ہے۔پس سُؤَالِ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاء إِلَّا كَذِبًا فَاحِشًا خدائے بزرگ و برتر کے سوال پر ان کا یہ انکار بجز واضح وَتَرَكَ الْحَيَاء۔وَالْعَجَبُ أَنَّهُ كَيْفَ لا جھوٹ اور ترک حیا کے اور کچھ نہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ يَسْتَحْيِ مِنَ الْكَذِبِ العَظِيمِ، وَيَكْذِبُ حضرت مسیح علیہ السلام اتنے بڑے جھوٹ پر شرم محسوس نہیں بَيْنَ يَدَيِ الْخَبِيرِ الْعَلِيمِ ! مَعَ أَنَّهُ قَدْ کریں گے اور خدائے علیم وخبیر کے سامنے دروغ بیانی رجع إلى الدُّنْيَا وَقَتَلَ النَّصَارَی کریں گے حالانکہ آپ دنیا کی طرف لوٹے ہوں گے۔وَكَسَرَ الضَّلِيبَ وَقَتَلَ الْخِنزير نصاری کو قتل کیا ہوگا۔صلیب کو تو ڑا ہوگا اور سؤروں کو تیز تلوار بِالْحُسَامِ الْحَسِيْمِ۔وَمَا كَانَ مُكْٹ سے قتل کیا ہو گا پھر دنیا میں کسی ایسے مسافر کی طرح آپ کا