تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 109
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+9 سورة المائدة سَاعَةٍ كَغَرِيبٍ يَمُرُّ مِنْ أَرْضِ بِأَرْضِ قیام صرف گھڑی بھر کا نہیں تھا جو بغیر کسی جگہ قیام کرنے غَيْرَ مُقِيمٍ وَلَا يُفَی بِالْعَزمِ کے ایک ملک سے دوسرے ملک کو چلا جاتا ہے اور عزم صمیم الصَّمِيمِ، بَلْ لَبِكَ فِيْهِمْ إِلى أَرْبَعِينَ سے کسی امر کی تحقیق و تفتیش نہیں کر سکتا بلکہ آپ ان لوگوں سَنَةً، وَقَتَلَهُمْ وَأَسَرَهُمْ وَأَدْخَلَهُمْ میں چالیس برس تک رہے اور انہیں قتل کیا ، قید کیا اور انہیں جَبْرًا في القِرَاطِ الْمُسْتَقِيمٍ۔ثُمَّ يَقُولُ: جبرا اسلام میں داخل کیا۔پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ مجھے کچھ علم لَا أَعْلَمُ مَا صَنَعُوا بَعْدِی فَالْعَجَبُ كُلُّ نہیں کہ میری قوم نے میرے بعد کیا کیا۔پس ایسے مسیح اور الْعَجَبِ مِنْ هَذَا الْمَسِيحِ وَكَذِبِهِ اس کے ایسے جھوٹ سے تعجب پر تعجب ہے! کیا ہم یہ بھی الطَّرِيحِ أَنُؤْمِنُ بِأَنَّهُ لَا يَخانى ایمان رکھیں کہ وہ یوم حساب اور سزا کے کوڑے سے نہیں الْحِسَابِ وَلَا سَوْطَ الْعِقَابِ، وَيَكْذِبُ ڈرتے اور ایسا واضح طور پر جھوٹ بولتے ہیں جس سے كَذِبًا فَاحِمًا تَعَافُهُ زَمَعُ النَّاسِ اونی لوگ بھی نفرت کریں اور وہ ایسے جھوٹ پر راضی ہیں وَيَرْضَى بِزُورٍ يَأْنَفُ مِنْهُ الْأَرَاذِلُ جس سے ایسے رذیل لوگ بھی ناک چڑھالیں جو گندگیوں الْمُلوّلُونَ بِالأَدْنَاس أَيجوزُ الْعَقْلُ في میں ملوث ہوتے ہیں؟ کیا عقل کسی نبی کی شان میں جائز شَأْنٍ نَبِي أَنَّهُ رَجَعَ إِلَى الدُّنْيَا بَعْدَ قرار دیتی ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ جانے کے بعد دنیا میں يوم الصُّعُودِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَرَأَى قَوْمَهُ النَّصَارَى وَثِرُكَهُمْ وَتَثْلِيقَهُمْ بِعَيْنَيْهِ مِن غَيْرِ الْخِفَاء ، ثُمَّ أَنْكَرَ أَمَامَ رَبِّهِ هَذِهِ الْقِصَّةَ، وَقَالَ: مَا رَجَعْتُ إِلَى الدُّنْيَا الدّنيَّةِ، وَلَا أَعْلَمُ مَا بَالُ قَوْمِي مُنْ واپس لوٹے اور اپنی قوم نصاری کے شرک اور تثلیث کے عقیدہ کو اپنی آنکھوں سے کھلم کھلا مشاہدہ کرے پھر بھی اپنے رب کے حضور اس تمام واقعہ سے انکار کر دے اور کہہ دے کہ میں تو حقیر دنیا میں واپس نہیں گیا اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ جب سے میں دوسرے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا میری قوم کا کیا حال ہوا؟ پس دیکھو کہ کون سا جھوٹ اس جھوٹ سے بڑا ہو سکتا ہے جس کے مرتکب مسیح علیہ السلام ہوں گے اور وہ بھی قیامت کے دن اور خدا الَّذِي يَرْتَكِبُهُ الْمَسِيحُ أَمَامَ عَيْنِ اللَّهِ فِي تعالیٰ کے روبرو اور ایسا کرتے ہوئے وہ خدا تعالیٰ سے بھی رُفعتُ إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَانْظُرُوا أَى كَذِبِ أَكْبَرُ مِنْ هَذَا الْكَذِبِ يَوْمِ الْحِسَابِ وَالْمَسْأَلَةِ، وَلَا يَخَافُ خطرَةً رَبّ الْعِزَّةِ فَالْحَاصِل أَنَّهُ لَمَّا مَنَعَ نہیں ڈریں گے۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب قرآن نے