تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 106
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٠٦ سورة المائدة اور بموجب تصریح اس آیت کے قیامت کے دن تک زمین پر نہیں اُتریں گے تو کیا وہ آسمان پر ہی مریں گے اور آسمان میں ہی اُن کی قبر ہو گی لیکن آسمان پر مرنا آیت فِيهَا تَمُوتُونَ ( الاعراف :۲۶) کے برخلاف ہے۔ پس اس سے تو یہی ثابت ہوا کہ وہ آسمان پر مع جسم عنصری نہیں گئے بلکہ مرکر گئے اور جس حالت میں کتاب اللہ نے کمال تصریح سے یہ فیصلہ کر دیا تو پھر کتاب اللہ کی مخالفت کرنا اگر معصیت نہیں تو اور کیا ہے؟ ( رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۱۳، ۳۱۴) اور جو لوگ مسلمان کہلا کر حضرت عیسی کو مع جسم عنصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ قرآن شریف کے برخلاف ایک لغو بات منہ پر لاتے ہیں۔ قرآن شریف تو آیت فَلَمَّا تَوَفِّيتَنِی میں حضرت عیسی کی موت ظاہر کرتا ہے ایت : قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا ( بنی اسرائیل : ۹۴) میں انسان کا مع جسم عند جسم عنصری آسمان پر جانا منع قرار دیتا ہے۔ پھر یہ کیسی جہالت ہے کہ کلام الہی کے مخالف عقیدہ رکھتے ہیں۔ توفی کے یہ معنی کرنا کہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھائے جانا اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی ۔ اوّل تو کسی کتاب لغت میں توفی کے یہ معنی نہیں لکھے کہ مع جسم عنصری آسمان پر اٹھایا جانا پھر ماسوا اس کے جبکہ آیت فَلَمَّا توفیتنی قیامت کے متعلق ہے یعنی قیامت کو حضرت عیسی خدا تعالیٰ کو یہ جواب دیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ قیامت تو آجائے گی مگر حضرت عیسی نہیں مریں گے اور مرنے سے پہلے ہی مع جسم عنصری خدا کے سامنے پیش ہو جائیں گے قرآن شریف کی یہ تحریف کرنا یہودیوں سے بڑھ کر قدم ہے۔ چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۵ حاشیه ) دوسرا گناہ ان لوگوں کا یہ ہے کہ قرآن شریف کی نص صریح کے برخلاف حضرت عیسی کو زندہ تصور کرتے ہیں۔ قرآن شریف میں صریح یہ آیت موجود ہے : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ انْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ اور اس آیت کے معنے یہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ جب کہ تو نے مع جسم عنصری مجھ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ عجیب لغت ہے جو حضرت عیسی سے ہی خاص ہے۔ افسوس ! اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح ہے یہ سوال حضرت عیسی سے قیامت کے دن ہوگا ۔ پس ان معنوں سے جو لفظ مُتَوَفِّيكَ کے کئے جاتے ہیں لازم آتا ہے کہ حضرت عیسی تو فوت ہونے سے پہلے ہی قیامت کے دن اللہ جل شانہ کے سامنے حاضر ہو جائیں گے اور اگر کہو کہ آیت فَلَمَّا توفیتنی کے یہ معنی ہیں کہ جبکہ تو نے مجھ کو وفات دے دی تو پھر مجھ کو کیا خبر تھی کہ میرے مرنے کے بعد میری اُمت نے کیا طریق اختیار کیا تو یہ معنے بھی اُن کے عقیدہ کی رو سے غلط ٹھہرتے ہیں اور