تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 93
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة المائدة بدکاری کا کام ہے جس میں یہ لوگ نمبر اول پر نہیں؟ پس صاف ظاہر ہے کچھ یہ لوگ بگڑ گئے اور شرک اور نا پاکیوں کا جذام ان کو کھا گیا اور اسلام کی عداوت نے ان کو تحت الثریٰ میں پہنچا دیا اور نہ صرف آپ ہی ہلاک ہوئے بلکہ ان کی ناپاک زندگی نے ہزاروں کو ہلاک کیا۔(ست بیچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۸) وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ أَنَّهُمْ اور سب سے زیادہ تعجب کی یہ بات ہے کہ وہ یہ کہتے يَقُولُونَ إِنَّا أَمَنَّا بِآيَاتِ اللهِ ثُمَّ لَا ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں لیکن يُؤْمِنُونَ وَيَقُولُونَ إِنَّا نَتَّبِعُ در حقیقت وہ ایمان نہیں لاتے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ صُحُفَ اللهِ ثُمَّ لَا يَتَّبِعُونَ أَلا تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کی پیروی کرتے ہیں لیکن حقیقتاً يَقْرَأُونَ فِي الْكِتَابِ الْأَعْلى مَا قَالَ پیروی نہیں کرتے کیا وہ برتر کتاب قرآن کریم میں اس کو نہیں الله في عِيسَى إِذْ قَالَ: يُعيسى انى پڑھتے جو عیسی علیہ السلام کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان مُتَوَفِّيكَ ، وَقَالَ: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي، وَمَا فرمایا ہے : اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اسی طرح قَالَ: إِنِّي مُحْيِيك۔فمن أَيْنَ عُلِمَ فرمایا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اور یہ نہیں فرمایا کہ میں تمہیں دوبارہ زندہ حَيَاةُ الْمَسِيحَ بَعْدَ مَوْتِهِ الصريح کرنے والا ہوں۔پس آپ کی صریح موت کے بعد حیات مسیح کا يُؤْمِنُونَ بِأَنَّهُ لَقِيَ الْأَمْوَاتَ ثُمَّ علم ان لوگوں کو کہاں سے ہوا۔یہ لوگ اس بات پر ایمان رکھتے يَقُولُونَ مَا مَاتَ تِلْكَ كَلِم ہیں کہ مسیح وفات یافتوں میں جا شامل ہوئے پھر بائیں ہمہ یہ بھی مُتَهَافِتَةٌ مُتَنَاقِضِةٌ لَّا يَنطِقُ بِهَا إِلَّا کہتے ہیں کہ آپ فوت نہیں ہوئے۔یہ ساری باتیں متناقض اور الَّذِي ضَلَّتْ حَوَاتُه وَغَرَبَ عَقَلُه پایا اعتبار سے گری ہوئی ہیں ایسی باتیں صرف حواس باختہ اور عقل وَقِيَاسُهُ، وَتَرَكَ طَرِيقَ الْمُهْتَدِينَ و قیاس سے محروم اور ہدایت یافتہ لوگوں کے طریق کو ترک کرنے ( انجام آنتظم ، روحانی خزائن جلد ۱ ۱ صفحه ۸۳) والا ہی کہہ سکتا ہے۔(ترجمہ از مرتب) ۱۱ ہے۔(ترجمہ أَمَا تَدَبَّرَ آيَةً فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي بِالْفِكْرِ کیا اُس نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی پر گہرے غور وفکر وَالْإِمْعَانِ فَإِنَّهُ نَضٌ صريح عَلى أَنَّ سے تدبر نہیں کیا ؟ کیونکہ یہ تو اس پر نص صریح ہے کہ عِيسَى مَاتَ في سَابِقِ الزَّمَانِ، لَا أَنَّه حضرت عیسی علیہ السلام گذشتہ زمانہ میں فوت ہو چکے نہ يَمُوتُ فِي حِينٍ مِنَ الْأَحْيَانِ فَإِنَّ کہ وہ آئندہ کسی وقت فوت ہوں گے۔درحقیقت یہ صیغہ الصَّبْغَةَ تَدُلُّ عَلَى الزَّمَانِ الْمَاضِى زمانہ ماضی پر دلالت کرتا ہے اور علم الصرف یہاں