تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 93

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۳ سورة المائدة بدکاری کا کام ہے جس میں یہ لوگ نمبر اول پر نہیں؟ پس صاف ظاہر ہے کچھ یہ لوگ بگڑ گئے اور شرک اور ناپاکیوں کا جذام ان کو کھا گیا اور اسلام کی عداوت نے ان کو تحت الثریٰ میں پہنچا دیا اور نہ صرف آپ ہی ہلاک ہوئے بلکہ ان کی نا پاک زندگی نے ہزاروں کو ہلاک کیا۔ (ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۸) وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ أَنَّهُمْ اور سب سے زیادہ تعجب کی یہ بات ہے کہ وہ یہ کہتے يَقُولُونَ إِنَّا آمَنَّا بِآيَاتِ اللهِ ثُمَّ لَا ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں لیکن يُؤْمِنُونَ وَيَقُولُونَ إِنَّا نَتَّبِعُ در حقیقت وہ ایمان نہیں لاتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ صُحُفَ اللَّهِ ثُمَّ لَا يَتَّبِعُونَ أَلا تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کی پیروی کرتے ہیں لیکن حقیقتاً يَقْرَأُوْنَ فِي الْكِتَابِ الْأَعْلَى مَا قَالَ پیروی نہیں کرتے کیا وہ برتر کتاب قرآن کریم میں اس کو نہیں اللهُ فِي عِيسَى إِذْ قَالَ: يُعِيسى اني پڑھتے جو عیسی علیہ السلام کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان مُتَوَفِّيكَ ، وَقَالَ: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي، وَمَا فرمایا ہے : اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اسی طرح قَالَ: إِنِّي مُحْيِيكَ فَمِنْ أَيْنَ عُلِمَ فرمایا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي اور یہ نہیں فرمایا کہ میں تمہیں دوبارہ زندہ حَيَاةُ الْمَسِيحِ بَعْدَ مَوْتِهِ الصَّرِيحِ کرنے والا ہوں ۔ پس آپ کی صریح موت کے بعد حیات مسیح کا يُؤْمِنُونَ بِأَنَّهُ لَقِيَ الْأَمْوَاتَ، ثُمَّ علم ان لوگوں کو کہاں سے ہوا۔ یہ لوگ اس بات پر ایمان رکھتے يَقُولُونَ مَا مَاتَ تِلْكَ كَلِم ہیں کہ مسیح وفات یافتوں میں جا شامل ہوئے پھر بایں ہمہ یہ بھی مُتَهَا فِتَةٌ مُتَنَاقِضِةٌ، لَّا يَنْطِقُ بِهَا إِلَّا کہتے ہیں کہ آپ فوت نہیں ہوئے ۔ یہ ساری باتیں متناقض اور الَّذِي ضَلَّتْ حَوَاتُهُ، وَغَرَبَ عَقْلُه پایہ اعتبار سے گری ہوئی ہیں ایسی باتیں صرف حواس باختہ اور عقل وَقِيَاسُهُ، وَتَرَكَ طَرِيقَ الْمُهْتَدِينَ و قیاس سے محروم اور ہدایت یافتہ لوگوں کے طریق کو ترک کرنے انجام آنقم ، روحانی خزائن جلد ا ا صفحہ ۸۳) والا ہی کہہ سکتا ہے۔ (ترجمہ از مرتب) أَمَا تَدَبَّرَ آيَةً فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي بِالْفِكْرِ کیا اُس نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی پر گہرے غور وفکر وَالْإِمْعَانِ فَإِنَّهُ نَضٌ صَرِيحٌ عَلَى أَنَّ سے تدبر نہیں کیا؟ کیونکہ یہ تو اس پر نص صریح ہے کہ عِيسَى مَاتَ فِي سَابِقِ الزَّمَانِ، لَا أَنَّهُ حضرت عیسی علیہ السلام گذشتہ زمانہ میں فوت ہ میں فوت ہو چکے نہ يَمُوتُ فِي حِينٍ مِنَ الْأَحْيَانِ، فَإِنَّ کہ وہ آئندہ کسی وقت فوت ہوں گے ۔ در حقیقت یہ صیغہ الصَّيْغَةَ تَدُلُّ عَلَى الزَّمَانِ الْمَاضی زمانہ ماضی پر دلالت کرتا ہے اور عا اور علم الصرف یہاں