تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 92
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۲ سورة المائدة تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تمثیلی معنوں کو ابن عباس کے صریح معنوں کے ساتھ زیادہ کھول دے تو ان دونوں آیتوں کو جمع کرنے اور ابن عباس کے معنوں کے ذکر سے کیا مطلب تھا اور کون سا محل تھا کہ توفی کے معنے کی بحث شروع کر دیتا۔پس در حقیقت امام بخاری نے اس کارروائی سے توفی کے معنوں میں جو کچھ اپنامذہب تھا ظاہر کر دیا۔سو اس جگہ ہمارے تائید دعویٰ کے لئے تین چیزیں ہو گئیں ؛ اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک کہ جیسے عبد صالح یعنی عیسی نے فلما توفیتَنِی کہا۔میں بھی فلمّا تَوَفَّيْتَنِی کہوں گا، دوسرے ابن عباس سے توئی کے لفظ کے معنے مارنا ہے، تیسرے امام بخاری کی شہادت جو اس کی عملی کا رروائی سے ظاہر ہو سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۰۶ تا ۴۰۸) اگر مسیح کی وفات کے عقیدہ کی وجہ سے ہمیں کافر کہا جاتا ہے تو امام مالک کو بھی کافر بناؤ کہ ان کا عقیدہ بھی یہی تھا جس سے رجوع ثابت نہیں اور امام بخاری کا بھی یہی عقیدہ تھا اگر یہ عقیدہ نہ ہوتا تو کیوں وہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی شرح کے وقت تائید حدیث کے لیے ابن عباس کا یہ قول لا تا مُتَوَفِّيكَ : مُمِيتُكَ پس اس حساب سے امام بخاری بھی کافر ہوئے اور یہی عقیدہ ابن قیم نے مدارج السالکین میں ظاہر کیا ہے۔انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۴) رہی ہے۔صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ مُتَوَقِيكَ : مُبینگن اور اس کی تائید میں صاحب بخاری اسی محل میں ایک حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لایا ہے۔پس جو معنی توئی کے ابن عباس اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام متنازعہ فیہ میں ثابت ہو چکے اس کے برخلاف کوئی اور معنی کرنا یہی ملحدانہ طریق ہے مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام متنازعہ فیہ میں یہی معنی کئے۔پس بڑی بے ایمانی ہے جو نبی کریم کے معنوں کو ترک کر دیا جائے اور جبکہ اس جگہ توفی کے معنی قطعی طور پر وفات دینا ہی ہوا تو پھر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وفات آئندہ کے زمانہ میں ہوگی کیونکہ آیت فلما تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيب عَلَيْهِمْ صاف صاف بتلا رہی ہے کہ وفات ہو چکی۔وجہ یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ جناب الہی میں عرض کرتے ہیں کہ عیسائی میری وفات کے بعد بگڑے ہیں۔پھر اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ اب تک عیسائی بھی نہیں بگڑے حالانکہ ان کم بختوں نے عاجز انسان کو خدا بنا دیا اور نہ صرف شرک کی نجاست کھائی بلکہ سور کھانا، شراب پینا، زنا کر نا سب انہی لوگوں کے حصہ میں آگیا۔کیا کوئی دنیا میں بدی ہے جو ان میں پائی نہیں جاتی ؟ کیا کوئی ایسا