تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 91
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۱ سورة المائدة بخاری کھول کر دیکھو اور پاک دل کے ساتھ اس آیت میں غور کرو کہ میں قیامت کے دن اسی طرح فلما توفيتَنِی کہوں گا جیسا کہ ایک عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا اور سوچو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ لفظ توفی کے لئے کیسی ایک تفسیر لطیف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی تغییر اور تبدیل کے لفظ متنازعہ فیہ کا مصداق اپنے تئیں ایسا ٹھہرا لیا جیسا کہ آیت موصوفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے مصداق تھے ۔ اب کیا ہمیں جائز ہے کہ ہم یہ بات زبان پر پر لاویں لاو بہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت کا فلما توفیتنی کے حقیقی مصداق نہیں تھے اور حقیقی مصداق عیسی علیہ السلام ہی تھے اور جو کچھ اس آیت سے در حقیقت خدا تعالیٰ کا منشاء تھا اور جو معنے توفی کے واقعی طور پر اس جگہ مراد الہی تھی اور قدیم سے وہ مراد علم الہی میں قرار پا چکی تھی یعنی زندہ آسمان پر اٹھائے جانا، نعوذ باللہ! اس خاص معنی میں آنحضرت صلعم شریک نہیں تھے بلکہ آنحضرت نے اس آیت کو اپنی طرف منسوب کرنے کے وقت اس کے معنوں میں تغییر و تبدیل کر دی ہے اور دراصل جب اس لفظ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کریں تو اس کے اور معنے ہیں اور جب حضرت مسیح کی طرف یہ لفظ منسوب کریں تو پھر اس کے وہی حقیقی معنے لئے جاویں گے جو خدائے تعالیٰ کے قدیم ارادہ میں تھے۔ پس اگر یہی بات سچ ہے تو علاوہ اس فساد صریح کے کہ ایک نبی کی شان سے بہت بعید ہے کہ وہ ایک قراردادہ معنوں کو توڑ کر اُن میں ایک ایسا تصرف کرے کہ بجر تحریف معنوی کے اور کوئی دوسرا نام اس کا ہو ہی نہیں سکتا ۔ دوسرا فساد یہ ہے کہ جس اتحاد مقولہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا یعنی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا وہ اتحاد بھی تو قائم نہ رہا کیونکہ اتحاد تو تب قائم رہتا کہ توفی کے معنوں میں آنحضرت اور حضرت عیسی شریک ہو جاتے مگر وہ شراکت تو میسر نہ آئی پھر اتحاد کس بات میں ہوا۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ور لفظ نہیں ملتا تھا جو آپ نے ناحق ایک ایسے اشتراک کی طرف ہاتھ پھیلا یا جس کا آپ کو کسی طرح سے حق نہیں پہنچتا تھا۔ بھلا زمین میں دفن ہونے والے اور آسمان پر زندہ اٹھائے جانے والے میں ایک ایسے لفظ میں کہ یا مرنے کے اور یا زندہ اٹھائے جانے کے معنے رکھتا ہے کیوں کر اشتراک ہو؟ کیا ضدین ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں؟ اور اگر آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں توفی کے معنے مارنا نہیں تھا تو پھر کیا امام بخاری کی عقل ماری گئی کہ وہ اپنی صحیح میں اسی معنے کی تائید کے لئے ایک اور آیت دوسرے مقام سے اٹھا کر اس مقام میں لے آیا یعنی آیت انِّي مُتَوَفِّيكَ اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ جڑ دیا کہ مُتَوَفِّيكَ : هميتك يعني مُتَوَفِّيكَ کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں ۔ اگر بخاری کا یہ مطلب نہیں