تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 90

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۰ سورة المائدة ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ سَبْع سَاعَاتٍ ثُمَّ رُفِعَ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مرنے کے بعد موت إِلَى السَّمَاءِ بِجَسَدِهِ الْعُنَصْرِي، ثُمَّ يَنْزِلُ کی حالت میں باقی نہیں رہے تھے بلکہ تین دن یا سات في آخِرِ الزَّمَانِ عَلَى الْأَرْضِ وَيَمْكُتُ گھنٹوں کے بعد دوبارہ زندہ کر دیئے گئے تھے پھر آسمان أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَمُوتُ مَرَّةً ثَانِيَةً کی طرف بجسد عنصری اٹھا لیے گئے۔پھر آپ آخری وَيُدْفَنَ فِي أَرْضِ الْمَدِينَةِ فِي قَبْرِ رَسُولِ زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور چالیس سال گزاریں اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصِل گے۔پھر دوبارہ وفات پائیں گے اور مدینہ کی زمین كَلَامِهِمْ أَنَّ لِلْخَلْيِ كُلِهِمْ مَوْتُ میں نبی کریم صلعم کی قبر میں دفن کیے جائیں گے۔گویا ان وَاحِدٌ وَلِلْمَسِيحِ مَوْتَيْنِ وَلَكِنَّنَا إِذَا کا حاصل کلام یہ ہے کہ تمام مخلوق کے لیے تو ایک ہی نظرنا في كِتَابِ الله سُبْحَانَهُ فَوَجَدْنَا موت ہے لیکن مسیح علیہ السلام کے لیے دو موتیں ہیں۔هذَا الْقَوْلَ مُخَالِفًا لِنُصُوصِهِ الْبَيِّنَةِ۔لیکن جب ہم اللہ تعالی کی کتاب قرآن مجید پر غور کرتے أَلا ترى أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي ہیں تو اس قول کو اس کی نصوص بینہ کے خلاف پاتے ہیں۔كِتَابِهِ الْمُحْكَمِ حِكَايَةٌ عَنْ مُؤْمِنٍ مُغْبطًا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب میں نَفْسَهُ بمَا أَعْطَاهُ اللهُ مِنَ الْخُلدِ فِي الْجَنَّةِ ایک ایسے مومن کی طرف سے حکایتاً بیان فرمایا ہے جو وَالْإِقَامَةِ فِي دَارِ الْكَرَامَةِ بِلَا مَوْتِ افتا ان نعماء پر اپنے نفس کو قابل رشک قرار دیتا تھا۔جو اسے نَحْنُ مَيْتِينَ إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولى وَ مَا نَحْنُ ہمیشہ رہنے والی جنت اور عزت والے گھر میں موت کے مُعَذِّبِينَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ بغیر ہمیشہ کے لیے دی گئیں۔یقینا یہ بہت بڑی کامیابی فَانظُرْ أَيُّهَا الْعَزِيزُ كَيْفَ أَشَارَ الله تعالی ہے۔پس اے عزیز! دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات إلَى امْتِنَاعِ الْمَوْتِ التّالي بَعْد الْمَوْتَةِ میں کس طرح پہلی موت کے بعد دوسری موت کے ناممکن الأولى، وَبَشَرَنَا بِالْخُلُودِ فِي الْعَالم ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہمیں موت کے بعد عالم الثَّانِي بَعْدَ الْمَوْتِ فَلَا تَكُن تین ثانی میں ہمیشہ رہنے کی بشارت دی ہے پس تو انکار کرنے الْمُنكِرِينَ والوں میں سے نہ بن۔( ترجمہ از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۴۲) له الصفت : ۵۹ تا ۶۱