تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 82

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة المائدة جب کہ اُس کو پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ تو نے تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے ماننا اور وہ بات ( جو میں ابن مریم کی طرح کہوں گا ) یہ ہے کہ میں جب تک اُن میں تھا اُن پر گواہ تھا پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو اُس وقت تو ہی اُن کا نگہبان اور محافظ اور نگران تھا۔اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قصہ اور مسیح ابن مریم کے قصہ کو ایک ہی رنگ کا قصہ قرار دے کر وہی لفظ فلما توفیتَنِی کا اپنے حق میں استعمال کیا ہے جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے وفات ہی مراد لی ہے کیونکہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ آنحضرت صلعم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آنحضرت کی مزار شریف موجود ہے پس جبکہ فلما توقیتی کی شرح اور تفسیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وفات پانا ہے ثابت ہوا اور وہی لفظ حضرت مسیح کے منہ سے نکلا تھا اور کھلے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ جن الفاظ کو مسیح ابن مریم نے استعمال کیا تھا وہی الفاظ میں استعمال کروں گا پس اس سے بکلی منکشف ہو گیا کہ مسیح ابن مریم بھی وفات پا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پاگئے اور دونوں برابر طور پر اثر آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی سے متاثر ہیں۔اسی وجہ سے امام بخاری اس آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي کو قصدا کتاب التفسیر میں لایا تا وہ مسیح ابن مریم کی نسبت اپنے مذہب کو ظاہر کرے کہ حقیقت میں وہ اس کے نزدیک فوت ہو گیا ہے۔یہ مقام سوچنے اور غور کرنے کا ہے کہ امام بخاری آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کو کتاب التفسیر میں کیوں لایا ؟ پس اونی سوچ سے صاف ظاہر ہوگا کہ جیسا کہ امام بخاری کی عادت ہے اس کا منشاء یہ تھا کہ آیت فلما توفیتَنِی کے حقیقی اور واقعی معنی وہی ہیں جن کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے۔سو اس کا مدعا اس بات کا ظاہر کرنا ہے کہ اس آیت کی یہی تفسیر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر وارد کر کے آپ فرمائی ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ اس طرز کو امام بخاری نے اختیار کر کے صرف اپنا ہی مذہب ظاہر نہیں کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي کے یہی معنی سمجھتے تھے تب ہی تو انہیں الفاظ فلما توفیت کو بغیر کسی تبدیل و تغییر کے اپنی نسبت استعمال کر لیا۔پھر امام صاحب نے اسی مقام میں ایک اور کمال کیا ہے کہ اس معنی کے زیادہ پختہ کرنے کے لئے اسی صفحہ ۶۶۵ میں آیت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے بحوالہ ابن عباس کے اسی کے مطابق تفسیر کی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں: وقال ابن عباس متوفيك : مُميتك ( دیکھو وہی صفحه ۲۶۵ بخاری)۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۸۵ تا ۵۸۷)