تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 81
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام Al سورة المائدة سوال اُن سے کیا گیا ہے یعنی اُن کی اُمت کا بگڑ جانا اُس وقت کی موت سے اس سوال کا کچھ علاقہ نہیں۔کیا نصار کی اب صراط مستقیم پر ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں کہ جس امر کے بارے میں خدائے تعالیٰ نے عیسی بن مریم سے سوال کیا ہے وہ امر تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ہی کمال کو پہنچ چکا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۴) قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفی کا لفظ آیا ہے ان تمام مقامات میں تو فی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۲۴ حاشیه ) توفی کے معنے وفات دینے کے صرف اجتہادی طور پر ہم نے معلوم نہیں کئے بلکہ مشکوۃ کے باب الحشر میں بخاری اور مسلم کی حدیث جو ابن عباس سے ہے صریح اور صاف طور پر اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فَلَما توفيتَنِی کی یہی تفسیر فرماتے ہیں کہ در حقیقت اس سے وفات ہی مراد ہے۔بلکہ اسی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں اُن کی وفات کے بعد کیا گیا تھا نہ یہ کہ قیامت میں کیا جائے گا۔پس جس آیت کی تفسیر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی کھول دیا پھر اگر کوئی تفسیر نبوی کو بھی سُن کر شک میں رہے تو اس کے ایمان اور اسلام پر اگر افسوس اور تعجب نہ کریں تو اور کیا کریں۔دیکھواس حدیث کو امام بخاری انہیں معنوں کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے اپنی صحیح کی کتاب التفسیر میں لایا ہے۔دیکھو صفحہ ۶۶۵ بخاری۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۳) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اسی غرض سے آیت کریمہ: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ كو كتاب التفسير میں لایا ہے اور اس ایراد سے اُس کا منشاء یہ ہے کہ تا لوگوں پر ظاہر کرے کہ تو فیتنی کے لفظ کی صحیح تفسیر وہی ہے جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ فرماتے ہیں یعنی مار دیا اور وفات دے دی اور حدیث یہ ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصَيْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيْب عَلَيْهِمْ - ( صلحه ۶۶۵ بخاری ۶۹۳ بخاری ) یعنی قیامت کے دن میں بعض لوگ میری اُمت میں سے آگ کی طرف لائے جائیں گے تب میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! یہ تو میرے اصحاب ہیں تب کہا جائے گا کہ تجھے اُن کاموں کی خبر نہیں جو تیرے پیچھے ان لوگوں نے کئے۔سو اُس وقت میں وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندہ نے کہی تھی یعنی مسیح ابن مریم نے۔