تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 83

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة المائدة حضرت مسیح علیہ السلام نے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں صاف صاف اپنا اظہار دے دیا ہے کہ میں ہمیشہ کے لیے دنیا سے اٹھایا گیا کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ جب مجھے وفات دی گئی تو پھر اے میرے رب ! میرے بعد تو میری امت کا نگہبان تھا صاف شہادت دے رہا ہے کہ وہ دنیا سے ہمیشہ کے لیے وفات پاگئے کیونکہ اگر ان کا دنیا میں پھر آنا مقدر ہوتا تو وہ ضرور ان دونوں واقعات کا ذکر کرتے اور نزول کے بعد کی تبلیغ کا بھی بیان فرماتے نہ یہ کہ صرف اپنی وفات کا ذکر کر کے پھر بعد اپنے خدا تعالیٰ کو قیامت تک نگہبان ٹھہراتے۔فتدبر ! (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲۵ حاشه) دوسری دلیل مسیح ابن مریم کی وفات پر خود جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اسی غرض سے لایا ہے کہ تا یہ ظاہر کرے کہ لمّا تَوَفَّيْتَنِي کے معنے لَمَّا آمَتَنِى ہے اور نیز اسی غرض سے اس موقعہ پر ابن عباس کی روایت سے متوفيك : مُميتك كى بھی روایت لایا ہے تا ظاہر کرے کہ لیا تو فیتنی کے وہی معنے ہیں جوانی متوفيك کے معنے ابن عباس نے ظاہر فرمائے ہیں۔اس مقام پر بخاری کو غور سے دیکھ کر ادنی درجہ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ توفیتَنِی کے معنے امثنی ہیں یعنی تو نے مجھے ماردیا۔اس میں تو کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا مزار موجود ہے۔پھر جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فلما توفیتَنِی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے اختیار کیا ہے اور اپنے حق میں ویسا ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ وہ حضرت عیسی کے حق میں مستعمل تھا تو کیا اس بات کو سمجھنے میں کچھ کسر رہ گئی کہ جیسا کہ آنحضرت صلعم وفات پاگئے ویسا ہی حضرت مسیح ابن مریم بھی وفات پاگئے۔یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور مفہوم آیات میں کسی طور سے تحریف جائز نہیں اور جو کچھ اصل منشاء اور اصل مفہوم اور اصل مراد ہر یک لفظ کی ہے اس سے عمداً اس کو اور معنوں کی طرف پھیر دینا ایک الحاد ہے جس کے ارتکاب کا کوئی نبی یا غیر نبی مجاز نہیں ہے۔اس لئے کیوں کر ہو سکتا ہے کہ نبی معصوم بجز حالت تطابق کلی کے جو فی الواقع مسیح کی وفات سے اس کی وفات کو تھی لفظ فلما توفیتَنی کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا اور نعوذ باللہ ! تحریف کا مرتکب ہوتا بلکہ ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم امام المعصومین وسید المحفوظین نے (روحی فداء سبیله ) لفظ فلما توفيتَنِي کا نہایت دیانت وامانت کے ساتھ انہیں مقررہ معینہ معنوں کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کیا ہے کہ جیسا کہ وہ بعینہ حضرت عیسی کے حق میں وارد ہے۔اب بھائیو! اگر حضرت سید و مولانا بجسده العصر ی آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور