تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 80
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۰ سورة المائدة بلکہ یہاں تک کہ جس قدر پہلے اس سے حضرت مسیح کی نسبت اطراء کیا گیا ہے وہ بھی خدا کو سخت ناگوار گزرا ہے اور اسی وجہ سے اس کو کہنا پڑا: انت قلت للناس اب آسمان کی طرف دیکھنا کہ کب آسمان سے ابن مریم اترتا ہے سخت جہالت ہے۔دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۶،۲۳۵) ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔وَ إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَانْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَ أُقِيَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ - برا امین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۹) قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح اسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے بلکہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا صریح ذکر ہے اور ایک جگہ خود مسیح کی طرف سے فوت ہو جانے کا اقرار موجود ہے اور وہ یہ ہے : كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا -۔ج تَوَفِّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ۔اب جب کہ فوت ہو جانا ثابت ہوا تو اس سے ظاہر ہے کہ اُن کا جسم اُن سب لوگوں کی طرح جو مر جاتے ہیں زمین میں دفن کیا گیا ہوگا کیونکہ جو۔قرآن شریف بصراحت ناطق ہے کہ فقط اُن کی روح آسمان پر گئی نہ کہ جسم۔تب ہی تو حضرت مسیح نے آیت موصوفہ بالا میں اپنی موت کا صاف اقرار کر دیا اگر وہ زندوں کی شکل پر خا کی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کرتے تو اپنے مرجانے کا ہرگز ذکر نہ کرتے اور ایسا ہر گز نہ کہتے کہ میں وفات پا کر اس جہان سے رخصت کیا گیا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان پر اُن کی روح ہی گئی تو پھر نازل ہونے کے وقت جسم کہاں سے ساتھ آجائے گا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۲۶،۱۲۵) قرآن شریف پر نظر غور ڈالو اور ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ کیوں کر وہ صاف اور بین طور پر عیسی بن مریم کے مرجانے کی خبر دے رہا ہے جس کی ہم کوئی بھی تاویل نہیں کر سکتے مثلاً یہ جو خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں حضرت عیسی کی طرف سے فرماتا ہے: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ کیا ہم اس جگہ توفی سے نیند مراد لے سکتے ہیں؟ کیا یہ معنے اس جگہ موزوں ہوں گے کہ جب تو نے مجھے سلا دیا اور میرے پر نیند غالب کر دی تو میرے سونے کے بعد تو اُن کا نگہبان تھا ہر گز نہیں بلکہ توفی کے سید ھے اور صاف معنے جو موت ہے وہی اس جگہ چسپاں ہیں لیکن موت سے مراد وہ موت نہیں جو آسمان سے اترنے کے بعد پھر وارد ہو کیونکہ جو