تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 79
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة المائدة علماء نے محض الحاد اور تحریف کی رُو سے اس جگہ تو فیتنی سے مرادر معتینی لیا ہے اور اس طرف ذرہ خیال نہیں کیا کہ یہ معنے نہ صرف لغت کے مخالف بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں۔پس یہی تو الحاد ہے کہ جن خاص معنوں کا قرآن کریم نے اوّل سے آخر تک التزام کیا ہے ان کو بغیر کسی قرینہ قویہ کے ترک کر دیا گیا ہے۔توفی کا لفظ نہ صرف قرآن کریم میں بلکہ جابجا احادیث نبویہ میں بھی وفات دینے اور قبض روح کے معنوں پر ہی آتا ہے۔چنانچہ جب میں نے غور سے صحاح ستہ کو دیکھا تو ہر ایک جگہ جو توفی کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا کسی صحابی کے منہ سے تو انہیں معنوں میں محدود پا یا گیا۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا توٹی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اور معنے ہوں۔میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں بطور اصطلاح کے قبض روح کے لئے یہ لفظ مقرر کیا گیا ہے تا روح کی بقاء پر دلالت کرے۔افسوس کہ بعض علماء جب دیکھتے ہیں کہ توفی کے معنے حقیقت میں وفات دینے کے ہیں تو پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت فلما توفيتنى میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسی کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرہ بھی شرم نہیں کرتے۔وہ نہیں سوچتے کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے پہلے یہ آیت ہے: وَ اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ الخ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے اور اس کے اول اڈ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھانہ زمانہ استقبال کا اور پھر ایسا ہی جو جواب حضرت عیسی کی طرف سے ہے یعنی فلتا تو فیتنی وہ بھی بصیغہ ماضی ہے اور اس قصہ سے پہلے جو بعض دوسرے قصے قرآن کریم میں اسی طرز سے بیان کئے گئے ہیں وہ بھی انہیں معنوں کے مؤید ہیں مثلا یہ قصہ: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ (البقرة : ۳۱) کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ کسی استقبال کے زمانہ میں ملائکہ سے ایسا سوال کرے گا ؟ ما سوا اس کے قرآن شریف اس سے بھرا پڑا ہے اور حدیثیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ موت کے بعد قبل از قیامت بھی بطور باز پرس سوالات ہوا کرتے ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۵،۴۲۴) خدا تو بپابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے۔یہ مولوی اسلام کے نادان دوست! کیا جانتے ہیں کہ ایسے عقیدوں سے کس قدر عیسائیوں کو مدد پہنچ چکی ہے۔اب خدا تعالیٰ کوئی نئی عظمت ابن مریم کو دینا نہیں چاہتا