تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 75

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ سورة المائدة کافی پانی بہم پہنچانے کے سوائے مفر نہیں۔اسی طرح پورے جہنم سے تھوڑی سی نیکی سے تم بھی بچ نہیں سکتے۔پس اس دھو کہ میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اب ہمیں کیا غم ہے۔ہدایت بھی ایک موت ہے جو شخص یہ موت اپنے اوپر وارد کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہے اور یہی اصفیاء کا اعتقاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اسی ابتدائی حالت کے واسطے فرمایا: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ یعنی پہلے اپنے آپ کو درست کرو اپنے امراض کو دور کرو دوسروں کا فکر مت کرو۔ہاں ! رات کو اپنے آپ کو درست کرو اور دن کو دوسروں کو بھی کچھ ہدایت کر دیا کرو۔خدا تعالیٰ تمہیں بخشے اور تمہارے گناہوں سے تمہیں مخلصی دے اور تمہاری کمزوریوں کو تم سے دور کرے اور اعمال صالح اور نیکی میں ترقی کرنے کی توفیق دیوے۔(آمین) الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخه ۱۰ تا ۱۷ نومبر ۱۹۰۴ ء صفحه ۸) بیان میں جب تک روحانیت اور تقویٰ و طہارت اور سچا جوش نہ ہو اس کا کچھ نیک نتیجہ مرتب نہیں ہوتا ہے۔وہ بیان جو کہ بغیر روحانیت و خلوص کے ہے وہ اس پر نالہ کے پانی کی مانند ہے جو موقعہ بے موقعہ جوش سے پڑا جاتا ہے اور جس پر پڑتا ہے اسے بجائے پاک وصاف کرنے کے پلید کر دیتا ہے انسان کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے پھر دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ یعنی اے مومنو! پہلے اپنی جان کا فکر کرو۔اگر تم اپنے وجود کو مفید ثابت کرنا چاہو تو پہلے خود پاکیزہ وجود بن جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ باتیں ہی باتیں ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کچھ اثر دکھائی نہ دے۔ایسے شخص کی مثال اس طرح سے ہے کہ کوئی شخص ہے جو سخت تاریکی میں بیٹھا ہے اب اگر یہ بھی تاریکی ہی لے گیا تو سوائے اس کے کہ کسی پر گر پڑے اور کیا ہو گا اسے چراغ بن کر جانا چاہیے تا کہ اس کے ذریعہ سے دوسرے روشنی پائیں۔البدر جلدے نمبر ۲۰،۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ ء صفحه ۳) يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَا ذَا أَجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا إِنَّكَ أَنْتَ عَلَامُ الغيوب یہ لاعلمی انبیاء کی اُن کی اُس امت کے بارے میں ہوتی ہے جو ان کی وفات کے بعد ہوتی ہے، میسیج بھی کہتا ہے : كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمُ ( المائدة : ۱۱۸ ) تو پھر اگر ان کو علم نہیں تو وہ شہید کس طرح ہوئے اور کس بات کے ہوئے ؟ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حالات سے تو لاعلمی ظاہر کر سکتے