تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 76

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۶ سورة المائدة ہیں مگر صحابہ کرام کی نسبت نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو ان کے حالات معلوم تھے اور آپ ان میں رہتے تھے۔اس قسم کی لاعلمی سے وہی لاعلمی مراد ہے یعنی اس امت کا ذکر جو کہ نبی کے بعد آیا کرتی ہے یا بہت آخری وقت پر آتی ہے کہ اسے نبی کی صحبت سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔(البدر جلد نمبر ۳ مورخه ۱۴ نورمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲۱) م اِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرُ نِعْمَتِى عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدُ تُكَ قف برُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَ كَهْلًا ۚ وَ إِذْ عَلَمْتُكَ الْكِتب و الْحِكْمَةَ وَالتَّوْريةَ وَالْإِنْجِيلَ وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ القِيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الموتى بِإِذْنِى وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ عَنْكَ إِذْ جِلْتَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ۔عصمت سے مراد یہ ہے کہ بڑی آفتوں سے جو دشمنوں کا اصل مقصود تھا بچایا جاوے۔دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عصمت کا وعدہ کیا گیا تھا حالانکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت زخم پہنچے تھا اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا تھا: إِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَنكَ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے میں نے تجھ سے روک دیا حالانکہ تو اتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا لیکن خدا نے آخر جان بچادی پس یہی معنے اِذْ كَفَفْتُ کے ہیں جیسا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸ ) کے ہیں۔نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۲۹) قَالُوا نُرِيدُ اَنْ تَأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْبِنَ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَتَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ قرآن شریف کے ایک مقام پر غور کرتے کرتے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی بڑی عظمت اور کامیابی معلوم ہوئی جس کے مقابل میں حضرت مسیح بہت ہی کمزور ثابت ہوتے ہیں۔سورہ مائدہ میں ہے کہ نزول مائدہ کی درخواست جب حواریوں نے کی تو وہاں صاف لکھا ہے: قَالُوا نُرِيدُ اَنْ تَأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَينَ قُلُوبُنَا وَ