تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 74

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۴ سورة المائدة کیوں کرتے تھے وہ آجکل کے لیکچر (ار) وں کی طرح زبان نہ کھولتے تھے جب تک خود عمل نہ کر لیتے تھے یہی خدا تعالیٰ کے قرب اور محبت کی راہ ہے۔جو شخص دل میں کچھ نہیں رکھتا اس کا بیان کرنا پر نالہ کے پانی کی طرح ہے جو جھگڑے پیدا کرتا ہے اور جونور معرفت اور عمل سے بھر کر بولتا ہے وہ بارش کی طرح ہے جو رحمت سمجھی جاتی ہے۔اس وقت میری نصیحت یادرکھیں ! آج کے بعد آپ مجھے یہاں نہ دیکھیں گے اور میں نہیں جانتا کہ پھر موقعہ ہو یا نہ ہولیکن ان تفرقوں کو مٹانے کی کوشش کرو میری نسبت خواہ آپ کا کچھ ہی خیال ہو لیکن یہ سمجھ کر کہ: ن مرد بائید که گیرد اندر گوش در نوشت است پند بر دیوار میری نصیحت پر عمل کرو جو شخص خود زہر کھا چکا ہے وہ دوسرں کی زہر کا کیا علاج کرے گا ؟ اگر علاج کرتا ہے تو خود بھی مرے گا اور دوسروں کو بھی ہلاک کرے گا کیونکہ زہر اس میں اثر کر چکا ہے اور اس کے حواس چونکہ قائم نہیں رہے اس لیے اس کا علاج بجائے مفید ہونے کے مضر ہوگا۔غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوں نے زبانوں کو تیز کرنا ہی سیکھا ہے۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخہ ۷ار تمبر ۱۹۰۴ صفحہ ۷ ) تم اپنی تبدیلی کے واسطے تین باتیں یاد رکھو ؟ (۱) نفس اتارہ کے مقابل پر تدابیر اور جد و جہد سے کام لو۔(۲) دعاؤں سے کام لو۔(۳) ست اور کاہل نہ بنو اور تھکو نہیں۔ہماری جماعت بھی اگر بیچ کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔جوردی رہتے ہیں خدا ان کو بڑھاتا نہیں۔پس تقومی ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔اگر کوئی شخص مجھے دجال اور کا فروغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرو کیونکہ جب خدا میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بد کلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کافر کہا تھا، ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اٹھا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متبع ایمان لائے ہیں۔ایسے لوگ یا درکھو کہ مخنث اور نامرد ہوتے ہیں یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی نا سمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے مگر اس کے اس فعل کو کوئی برا نہیں سمجھتا۔پس یاد رکھو کہ نری بیعت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کچھ بھی سودمند نہیں۔جب کوئی شخص شدت پیاس سے مرنے کے قریب ہو جاوے یا شدت بھوک سے مرنے تک پہنچ جاوے تو کیا اس وقت ایک قطرہ پانی یا ایک دانہ کھانے کا اس کو موت سے بچالے گا ؟ ہر گز نہیں ! جس طرح اس بدن کو بچانے کے واسطے کافی خوراک اور