تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 71

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اے سورة ال عمران واسطے اور دیر پا ہوتے ہیں انسان جوں جوں ان میں غور خوض کرتا ہے توں توں ان کی شوکت اور عظمت بھی بڑھتی جاتی ہے۔اور جوں جوں بُعد زمانی ہوتا جاتا ہے ان کی ضیاء اور شوکت میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ان کی عظمت میں فرق نہیں آتا چنانچہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اس قسم ثانی کے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۵) جس قدر معجزت ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوئے ہیں دنیا میں کل نبیوں کے معجزات کو بھی اگر ان کے مقابلہ میں رکھیں تو میں ایمان سے کہتا ہوں کہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات بڑھ کر ثابت ہوں گے۔قطع نظر اس بات کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے اور قیامت تک اور اس کے بعد تک کی پیشگوئیاں اس میں موجود ہیں سب سے بڑھ کر ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کا یہ ہے کہ ہر زمانہ میں ان پیشگوئیوں کا زندہ ثبوت دینے والا موجود ہوتا ہے چنانچہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بطور نشان کھڑا کیا اور پیشگوئیوں کا ایک عظیم الشان نشان مجھے دیا تا میں ان لوگوں کو جو حقائق سے بے بہرہ اور معرفت الہی سے بے نصیب ہیں روز روشن کی طرح دکھا دوں کہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کیسے مستقل اور دائمی ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۱۷/ مارچ۱۹۰۱ء صفحه ۳) قرآن کریم میں جس قدر معجزات آگئے ہیں ہم ان کے دکھانے کو زندہ موجود ہیں خواہ قبولیت دعا کے متعلق ہوں خواہ اور رنگ کے معجزہ کے منکر کا یہی جواب ہے کہ اس کو معجزہ دکھا یا جاوے، اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۴ مؤرخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۷۴) یہ بات اس جگہ یا در رکھنے کے لائق ہے کہ اس قسم کے اقتداری خوارق گو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتے ہیں مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کے ان خاص افعال سے جو بلا توسط ارادہ غیرے ظہور میں آتے ہیں کسی طور سے برابری نہیں کر سکتے اور نہ برابر ہونا ان کا مناسب ہے اسی وجہ سے جب کوئی نبی یا ولی اقتداری طور پر بغیر توسط کسی دعا کے کوئی ایسا امر خارق عادت دکھلاوے جو انسان کو کسی حیلہ اور تدبیر اور علاج سے اس کی قوت نہیں دی گئی تو نبی کا وہ فعل خدا تعالیٰ کے ان افعال سے کم رتبہ پر رہے گا جو خود خدا تعالٰی علانیہ اور بالجبر اپنی قوت کاملہ سے ظہور میں لاتا ہے یعنی ایسا اقتداری معجزہ بہ نسبت دوسرے الہی کاموں کے جو بلا واسطہ اللہ جل شانہ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہوگا تا سرسری