تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 70
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام چر چا اور زور اس کے وقت میں ہو۔سورة ال عمران الحکم جلد ۶ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴ را پریل ۱۹۰۲ صفحه ۷) میر ایمان ہے کہ بغیر معجزات کے زندہ ایمان ہی نصیب نہیں ہوسکتا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱،مورخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۱) یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی شناخت کا ذریعہ ان کے منجزات اور نشانات ہوتے ہیں جیسا کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی شخص اگر حاکم مقرر کیا جاوے تو اس کو نشان دیا جاتا ہے اسی طرح پر خدا کے مامورین کی شناخت کے لیے بھی نشانات ہوتے ہیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱،مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۶ء صفحه ۴) معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں ؟ (۱) معجزات عقلیہ (۲) معجزات علمیہ (۳) معجزات برکات روحانیہ (۴) معجزات تصرفات خارجیہ نمبر اول دو و تین کے معجزات خواص ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالی شان اور بدیہی الثبوت ہیں جن کو ہر یک زمانہ میں ہر یک شخص تازہ بتازہ طور پر چشم دید ماجرا کی طرح دریافت کر سکتا ہے لیکن نمبر چار کے معجزات یعنے تصرفات خارجیہ، یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں انہیں میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۰ حاشیه ) معجزات تین قسم کے ہوتے ہیں ؛ دعائیہ، ارہا صیہ اور قوت قدسیہ کے معجزات۔ارہا صیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا۔قوت قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں انگلیاں رکھ دی تھیں اور لوگ پانی پیتے چلے گئے یا کنوئیں میں لب گراد یا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا مسیح کے معجزات اس قسم کے بھی تھے۔خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۳) معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو کہ موسیٰ کے سوٹے کی طرح فورا دکھا دیئے جاتے ہیں۔دوسرے علمی رنگ کے معجزات اور غیب پر مشتمل پیشگوئیاں۔اول الذکر معجزات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان سے دشمنوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں مگر دیر پا اور ہمیشہ کے واسطے نہیں ہوتے بلکہ وہ وقتی ضرورت کے مناسب حال ہوتے ہیں پیچھے آنے والی قوموں کے واسطے وہ کوئی حجت اور دلیل نہیں ہوتے۔کیونکہ ان میں تدبر و تفکر کا انسان کو موقع نہیں ملتا۔مگر موخر الذکر معجزات ایسے علمی رنگ میں ہوتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے