تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 72
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۲ سورة ال عمران نگاہ والوں کی نظر میں تشابہ فی اخلق واقع نہ ہو۔اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا باوجود اس کے کئی دفعہ سانپ بنالیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کے مٹی ہی تھے اور کہیں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں چونکہ طاقت الہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تجلیات الہیہ کیلئے اتر واعلیٰ وارفع و اکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرر کرنے سے قاصر ہیں مگر تا ہم ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہوگا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۸،۶۷) قرآن شریف میں حضرت مسیح ابن مریم کے معجزات کا ذکر اس غرض سے نہیں ہے کہ اس سے معجزات زیادہ ہوئے ہیں بلکہ اس غرض سے ہے کہ یہودی اس کے معجزات سے قطعاً منکر تھے اور اس کو فریبی اور مگار کہتے تھے پس خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہودیوں کے دفع اعتراض کے لئے مسیح ابن مریم کو صاحب معجزہ قرار دیا۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۷۹) حضرت عیسی نے خود کہا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔قرآن مجید سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے : وَرَسُولًا إِلى بَنِي إِسْرَاء يُلَ - ( بدر جلدے نمبر ۵۲ مورخه ۲۵/جون ۱۹۰۸ ء صفحه ۶) b فَلَمَّا اَحَشَ عِيسَى مِنْهُمُ الْكَفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ قَالَ ج الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدُ بِأَنَا مُسْلِمُونَ ) (۵۳) شریعت نے اسباب کو منع نہیں کیا ہے اور سچ پوچھو تو کیا دعا اسباب نہیں ؟ یا اسباب دعا نہیں ؟ تلاش اسباب بجائے خود ایک دعا ہے اور دعا بجائے خود عظیم الشان اسباب کا چشمہ !۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کیلئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دیتے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ مَنْ اَنْصَارِی إِلَى اللهِ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔