تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 65

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۵ سورة ال عمران پھر ان (حضرت مسیح علیہ السلام) کا جانور بنانا ہے سو اس میں بھی ہم اس بات کے تو قائل ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ کہ اُنہوں نے چڑیاں بنادیں اور انڈے بچے دے دیئے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے ایسا ثابت ہے۔ ہم کیا کریں؟ ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے ۔ (الحکم جلدے نمبر ۱۶، مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸) چڑیاں کیا شے ہیں ؟ ہم تو یہ بھی مانتے ہیں کہ ایک درخت بھی ٹاپنے لگے مگر پھر بھی وہ خدا کی چڑیوں کی طرح ہر گز نہیں ہو سکتی کہ جس سے تشابہ فی الخلق لازم آ جاوے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ ، مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۶) خلق طیور ۔۔۔۔۔ پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اس سے ایسے پرندے مراد ہیں جن کا ذبح کر کے گوشت بھی کھایا جا سکے ۔۔۔۔۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ خلق طیور اس قسم کا تھا کہ حد اعجاز تک پہنچا ہوا تھا۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۴ ، مورخه ۱۶ دسمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۷۴) حضرت عیسی کا خلق طیور کا مسئلہ بعینہ موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے والی بات ہے۔ دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہی سوٹے کا سوٹا تھا۔ نہ یہ کہ وہ کہیں سانپوں کے گروہ میں چلا گیا تھا۔ پس اسی طرح حضرت عیسی کے وہ طیور بھی آخرمٹی کی مٹی ہی تھے بلکہ حضرت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسی کے طیور سے بہت بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلے میں آئے اور نہ اُن کا غلبہ ثابت ہوا۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶، مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۴) اكمة ۔۔۔۔۔ کے معنے شب کور کے ہیں ۔ یہ آسمة وہ مرض ہے جس کا علاج بکرے کی کلیجی کھانا بھی ہے اور اس سے بھی یہ اچھے ہو جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر۷ ، مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۲ ء صفحہ ۴) حضرت عیسیٰ کے معجزے تو ایسے ہیں کہ اس زمانے میں وہ بالکل معمولی سمجھے جاسکتے ہیں۔ آسمہ سے مراد شب کور ہے، اب ایسا بیمار معمولی کلیجی سے بھی اچھا ہو سکتا ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحه (۴)