تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 65
سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام پھر ان (حضرت مسیح علیہ السلام) کا جانور بنانا ہے سو اس میں بھی ہم اس بات کے تو قائل ہیں کہ روحانی طور سے معجزہ کے طور پر درخت بھی ناچنے لگ جاوے تو ممکن ہے مگر یہ کہ اُنہوں نے چڑیاں بنادیں اور انڈے بچے دے دیئے اس کے ہم قائل نہیں ہیں اور نہ قرآن شریف سے ایسا ثابت ہے۔ہم کیا کریں؟ ہم اس طور پر ان باتوں کو مان ہی نہیں سکتے جس طرح پر ہمارے مخالف کہتے ہیں کیونکہ قرآن شریف صریح اس کے خلاف ہے اور وہ ہماری تائید میں کھڑا ہے۔(الحکم جلدے نمبر ۱۶، مورخه ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸) چڑیاں کیا شے ہیں؟ ہم تو یہ بھی مانتے ہیں کہ ایک درخت بھی ٹاپنے لگے مگر پھر بھی وہ خدا کی چڑیوں کی طرح ہر گز نہیں ہو سکتی کہ جس سے تشابہ فی الخلق لازم آ جاوے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۵،مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۶) خلق طیور۔۔۔۔۔پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اس سے ایسے پرندے مراد ہیں جن کا ذبح کر کے گوشت بھی کھایا جا سکے۔۔۔۔۔بلکہ مراد یہ ہے کہ خلق طیور اس قسم کا تھا کہ حد اعجاز تک پہنچا ہوا تھا۔البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۴، مورخه ۱۶/ دسمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۷۴) حضرت عیسی کا خلق طیور کا مسئلہ بعینہ موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے والی بات ہے۔دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہی سونے کا سوٹا تھا۔نہ یہ کہ وہ کہیں سانیوں کے گروہ میں چلا گیا تھا۔پس اسی طرح حضرت عیسی کے وہ طیور بھی آخر مٹی کی مٹی ہی تھے بلکہ حضرت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسی کے طور سے بہت بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلے میں آئے اور نہ اُن کا غلبہ ثابت ہوا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ ، مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۴) اكمة۔۔۔۔۔کے معنے شب کور کے ہیں یہ اسمة وہ مرض ہے جس کا علاج بکرے کی کلیجی کھانا بھی ہیں۔۔۔۔۔ہے اور اس سے بھی یہ اچھے ہو جاتے ہیں۔الحکم جلد 4 نمبر۷ ، مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۴) حضرت عیسی کے معجزے تو ایسے ہیں کہ اس زمانے میں وہ بالکل معمولی سمجھے جاسکتے ہیں۔انبہ سے مراد شب کو رہے ، اب ایسا بیمار معمولی کلیجی سے بھی اچھا ہو سکتا ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۶ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۴)